السلام علیکم !
اگر کسی شخص نے اپنی وراثت پر وصیت کر دی اور پاور آف اٹرنی بھی لکھ دی، مگر مالکانہ حقوق نہیں دئے،تو کیا اس شخص کی وفات کے بعد اس وصیت کی کوئی شرعی حیثیت ہو گی؟
صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اپنے ما ل و جائیداد سے متعلق اگر اپنےکسی وارث کے حق میں کوئی وصیت کی ہو، تو شرعاًدیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اس ورث کے حق میں کی گئی وصیت معتبر نہیں ہوتی، اور نہ ہی مورِ ث کے مرنے کے بعد ورثاء پر اس وصیت کے مطابق عمل کرنا شرعاً لازم ہوتا ہے، اس لئےاگر ورثاء اس وصیت پر راضی نہ ہوں تو اس وصیت پر عمل کئے بغیر مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے ورثاء میں تقسیم کیا جائیگا۔
تاہم سوال کی نوعیت کچھ اور ہو، تو وصیت نامہ کی کاپی اور اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کر دے، تو اس پر غور و فکر کر ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
کما فی التاترخانیۃ: فإن کان الموصی لہ وارثہ لم تجز الوصیۃ و إن لم یکن وارثہ جازت الوصیۃ لہ الخ ( الباب الثالث فی ما یجوز من الوصایا و ما لا یجوز، ج: 19، ص: 382، ط: رشیدیۃ )۔
و فی الھندیۃ: و لا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، الخ ( کتاب الوصایا، ج:6، ص: 90، ط: ماجدیۃ )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0