کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ والد نے اپنی زندگی میں مکان بیچ کر بیٹے کو کاروبار کے لئے پیسے دے دیے ، اور اس کاروبار کی نوعیت یہ تھی کہ انہوں نے اس مکان کے بدلے حاصل کردہ رقم سے پراپرٹی کا کاروبار شروع کر دیا،جو آگے بڑھتا گیا،اسی رقم سے بہنوں کی شادیاں بھی ہوگئی،اور جس مکان میں میری رہائش ہے،وہ بھی اسی کاروبار سے بنایا گیا تھا،اسی دوران والد کا انتقال ہوا،اب یہ بندہ اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہے ،اور یہ بندہ چھ بہنوں کا ایک بھائی ہے، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ بندہ اپنی بہنوں کو حصہ کس حساب سے دے گا؟وہی پرانے والے گھر کے حساب سے جس کو بیچا گیا تھا، یا اب موجودہ گھر جو انہوں نے خریدا ہے اس مالیت کے اعتبار سے،ورثاء میں والدہ،بیٹا اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں۔
نوٹ : والدصاحب کمانے کے لائق نہیں تھے ،جس کی وجہ سے والدنے بیٹے کو مکان بیچ کر کاروبار کے لئے پیسے دیے ۔
صورتِ مسؤلہ میں والدِمرحوم نے اگرہبہ اور گفٹ کی صراحت کیے بغیرگھریلو ضروریات کو پوراکرنےاورانتظام وانصرام چلانے کی غرض سے مکان بیچ کر یہ رقم بیٹے کوکاروبار کے لئے دی ہو،اوربیٹے نے اس کاروبارمیں اپنا ذاتی سرمایہ نہ لگایا ہو، بلکہ والدِ مرحوم کے پیسوں سے ہی پراپرٹی کاروبارشروع کرکے اسے آگے بڑھایا ہوتو ایسی صورت میں بیٹے کی حیثیت ایک معاون اور مددگارکی ہوگی ،اور یہ مکمل کاروباراور اس سے حاصل شدہ آمدنی والدِ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا ،جوکہ بیٹے سمیت تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا شرعاً لازم ہے،تاہم اگر شخصِ مذکور کی بہنیں بلا جبرواکراہ اپنی مرضی وخوشی سےبھائی کو محنت کے بدلے اپنے حصہ میراث میں سے کچھ لیکر بقیہ انہیں چھوڑنا چاہیں،تو انہیں اختیار حاصل ہے، تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ،سوناچاندی ،زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو، یابیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ اور ہر بیٹی کوایک ایک (1) حصہ ،جبکہ بیٹے کو دو(2)حصے دیے جائیں۔
کما فی رد المحتار: عن القنية: الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب الخ (4/325)۔
وفیہ ایضاً:دفع لابنہ مالا لیتصرف فیہ ففعل وکثر ذلک فمات الأب إن أعطاہ ھبة فالکل لہ وإلا فمیراث وتمامہ في جواھر الفتاوی اھ (قولہ)وإلا فمیراث بأن دفع إلیہ لیعمل للأب اھ (5/709)۔
وفی درر الحكام فی شرح مجلۃ الاحکام : المادة (1398) - (إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه الخ) إذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل (الكتاب العاشر، الباب السادس، الفصل السادس، المبحث الثاني،ج3،ص421، ط: ط: دار الجيل)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0