میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بات کرتے ہوئے یہ بولا کہ کس بےوقوف نے بولا ہے کہ اسلام آسان ہے ؟اسلام تو آسان نہیں مشکل ہے، اس سے میرا مطلب تھاکہ اسلام میں تو بہت قربانیا ں دینی ہوتی ہیں ، جیسےجہاد کرنا،اپنا گھر بار چھوڑنا، ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ، بےگناہ ہونے کے باوجود چوری یا زناثابت ہونے پر اسلامی سزا ملنے پر صبر کرنا، اور اس جیسے اور بہت زیادہ تکالیف جو مسلمانوں کو برداشت کرنی ہوتی ہیں دنیا میں، اسطرح نفس کے خلاف جہاد کرنا، حرام کاروبار چھوڑ کر مفلسی میں زندگی گزارنا، جبکہ یہ تمام کام صرف ایک اچھے مسلمان کو کرنے ہوتے ہیں،لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ دین آسان ہےٰ(الدِّیْنُ یُسْرٌ)ٰ ،میرا مقصد ویسے ان لوگوں کو بیوقوف کہنا تھا جو دین کو اتنا آسان بنا دیتے ہیں کہ بس مشکل کام ہے ہی نہیں ،جو ان کو آسان لگے بس وہی اسلام ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ دین آسان ہے، دین کے جو مشکل احکام ہے وہ نہیں کرتے نہ ہی کوئی مظلوم کیلئے حق بات کرتا ہے،اور رسول پاک ، انبیاء اور صحابہ کرام نے جو تکالیف برداشت کی ہیں، وہ بھول جاتے ہیں، تو کیا میں اس بات کے کہنے سے کافر ہو گیاہوں؟ اگر چہ میں نے دل سے رسول پاک کے لیے ایسا نہیں کہا نہ ہی میں نے کبھی ایسا سوچا ہے،
بلکہ مجھ کو یوں لگا کہ دین آسان ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین اسلام میں کو ئی مشکل پیش ہی نہیں ہوگی، یا جو سب سے آسان کام ہے وہی کرنے سے انسان کامل دین پر عمل کر سکتا ہے۔شکریہ!
واضح ہو کہ ” الدین یسر “ کے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو فطرتِ انسانی کے مطابق اور قابلِ عمل بنایا ہے،اور جو احکاماتِ شریعت انسانوں پر لازم کیے گئے ہیں، ان کی ادائیگی انسان کیلئے ضرر یا مشقت کا سبب نہیں ہوتی،جبکہ دین کے راستہ پر چلتے ہوئے انسان کو دوسروں کی جانب سے نامناسب،مشکل حالات اور آزمائش کا سامنا بھی ہوتا ہے،جس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ساتھ بڑے اجرو ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے، لہذا اگر سائل کی غرض اس کلام ” دینِ اسلام پر چلنا مشکل ہے“ سے یہ ہو کہ دین پر چلنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس میں آزمائش پر صبر بھی کرنا پڑتا ہے،تو اس کلا م سے سائل پر کفر کا حکم نہیں لگتا،لہذا بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ(العنکبوت:2)۔
وقال تعالی: وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ (البقرۃ:155)۔
وفی تفسیر القرطبی تحت: ( قولہ وهم لا يفتنون ) يمتحنون، أي أظن الذين جزعوا من أذى المشركين أن يقنع منهم أن يقولوا إنا مؤمنون ولا يمتحنون في إيمانهم وأنفسهم وأموالهم بما يتبين به حقيقة إيمانهم. قوله تعالى: (ولقد فتنا الذين من قبلهم) أي ابتلينا الماضين كالخليل ألقي في النار إلخ(ج: 13، ص: 324، ص: دار الکتب المصریۃ)۔
وفیہ أیضاً تحت: قولہ(ولنبلونکم بشئی إلخ) والمعنى لنمتحننكم لنعلم المجاهد والصابر علم معاينة حتى يقع عليه الجزاء، كما تقدم (إلی قولہ)” وبشر الصابرين" أي بالثواب على الصبر إلخ(ج: 2، ص: 173، ط: دار الکتب المصریۃ)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح تحت: (قوله: "إن الدين يسر") يعني: لا يحمل الله على عباده في الدين مشقة عظيمة، ولم يفرض عليهم من الفرائض ما يلحقهم ضرر بأدائها، كما قال الله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78]، وقال أيضا {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر} [البقرة: 185 إلخ(کتاب الصلاۃ، باب القصد فی العمل، ج: 2، ص: 279، ط: دار النوادر)۔
وفی الدر المختار: والکفر لغۃ الستر، وشرعاً: تکذیبہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شئی مما جاء بہ من الدین ضرورۃ وألفاظہ تعرف فی الفتاوی إلخ(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 223، ط: سعید)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1