محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:ایک مرحوم شخص کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھی ،مرحوم کے بڑے بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا ،مرحوم بیٹے کی اولاد میں دو بیٹے اور بیوہ ہیں، مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے ایک بھائی نے بڑے مرحوم بھائی کی جائیداد میں مرحوم بیٹے کی اولاد کو وراثت میں زمین دی ،اس وقت دو بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں،مرحوم نےایک گورنمنٹ کے پلاٹ پر قبضہ کیا تھا ،جو کہ اس کی ملکیت تھی، اور اب بھی ہے، آج اس کے بڑے بیٹے کی اولاد نے اس پلاٹ میں حصہ مانگا ہے، آپ سے گزارش ہے کہ یہ جو قبضے کی ملکیت مرحوم کی ہے ،اس ملکیت میں بڑے مرحوم بیٹے جو کہ والد کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا ،اور مرحوم والد نے کوئی وصیت نہیں کی تھی کہ میرے مرحوم بیٹے کی اولاد کو جائیداد میں حصہ نہ دینا ،اسی وجہ سے ان کے بھائی نے مرحوم کی جائیداد میں اس کے مرحوم بیٹے کی اولاد کو حصہ دیا۔
آپ سے گزارش ہے کہ آپ شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ!
واضح ہوکہ مورث کی زندگی میں انتقال کرنے والے وارث اوراس کی اولاد مرحوم کے دیگر ورثاء (ذوی الفروض ،عصبات)کی موجودگی میں وراثت کے حقدار نہیں بنتے ،لہذامسؤلہ صورت میں مرحوم کے بڑے بیٹے کا انتقال چونکہ مرحوم کی زندگی میں ہو گیا تھا،اس لئے مرحوم بیٹے کی اولاد مرحوم دادا کے دیگر بیٹوں کی موجودگی میں شرعاً وارث نہیں ،اور نہ ہی انہیں وارث کی حیثیت سے دیگر ورثاء سے مطالبہ کرنے کا اختیار ہے ،البتہ مرحوم کے دیگر ورثاء اگر اپنی مرضی وخوشی سے اپنے مرحوم بھائی کی اولادکو کچھ دینا چاہیں،تو انہیں اس کا اختیار ہے،مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
کما فی الصحيح البخاري: عن ابن عباس قال قال رسول الله عليه والله الحقوا الفرائض بأهلها فما يقي فهو لأولى رجل ذكر . (1 / 313)۔
وفی حاشية ابن عابدين: إذا تعدد أهل تلك الجهة اعتبر الترجيح بالقرابة، فيقدم الابن على ابنه. (6 / 774)۔
وفی البحر الرائق:قال رحمه الله(وولد الابن كولده عند عدمه)أي عند عدم الابن الخ ،قال رحمه الله(ويحجب بالابن)أي ولد الابن يحجب بالابن ذكورهم وإناثهم فيه سواء اھ (8/ 563 دار الكتاب الاسلامي)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2