کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید کی دو لڑکیاں تھیں ،ان کو حق بھی انہوں نے اپنی زندگی میں دے دیا تھا ،اور زید خود بیمار تھا، اور ضعیف العمر ہو گیا ہے،بقیہ زندگی اپنے بھتیجے کے پاس گزار دی،اور اپنی بقیہ جائیداد کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی کہ میری جائیداد کا تیسرا حصہ میرے اوپر خرچ کیا جائے، بقیہ اپنے اور خدمت گار بھتیجے کے نام وقف کردی تھی، اس واقعہ کے گواہ بھی موجود ہے ،اب ان کے بعید (دور) اور قریب (نزدیک) بھتیجے ان کی وراثت کے دعویدار ہے،حال یہ ہے کہ زید کی صرف دو ہی لڑکیاں ہے، لیکن ان کو ان کا پورا حق مل گیا ہے ،زید کا نہ باپ ہے،اور نہ ہی بھائی اور نہ ہی چچا اور نہ ہی بیوی وغیرہ ہے، یعنی زید کے قریبی رشتہ دار نہیں ہے۔ آخر طلب ایک بھتیجے جسکے بارے میں انہوں نے وصیت کی ہے، البتہ بقیہ رشتہ دار وراثت کے حقدار ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟ جزاک اللہ
مسمی زید نے اپنی زندگی میں بیٹیوں یا کسی دوسرے کو جو کچھ دے کر اس پر انہیں ملکانہ قبضہ بھی دیا تھا، تو یہ دینا شرعاً ہبہ کہلاتا ہے جو بلاشبہ جائز اور درست ہے،مگر اس دینے کی وجہ سے کوئی وارث اپنا حصہ میراث سے محروم نہیں ہو سکتا، لہذا بیٹیوں کو اُن کا حق ملنے سے متعلق سوال میں جو ذکر ہے ،اس سے اگر مرحوم کا زندگی میں دینا مراد ہو، تب بھی وہ اس کے علاوہ اپنے والد محروم کے دیگر ترکہ میں سے دو تہائی حصہ کی اب بھی وارث ہیں، اور جو کچھ مرحوم کی زندگی میں انہیں ملا وہ ہدیہ اور ہبہ کہلائے گا۔ اور اگر بعد میں دینا مراد ہو تو یہ کس نسبت سے انہیں دیا گیا اس کی وضاحت کر کے اس سوال کو دوبارہ روانہ کر دیں۔ اس پر بھی غور کیا جائیگا ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم نے اپنی بقیہ جائیداد سے متعلق جو وصیت کی تھی یہ تحریری شکل میں موجود ہے یا نہیں؟ نیز مذکور بھتیجے کی بہن یا مرحوم کے دوسرے بھائیوں کی اولاد سے بھی کوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہاں تو وہ مرحوم کے رشتہ میں کیا لگتے ہیں۔ براہ کرم ان تنقیحات کا جواب لکھ کر اس سوال کو دوبارہ دار الافتاء روانہ کر دیں انشاء اللہ اس پر بھی غور کیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب
كما في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به (إلی قوله) رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء اھ (4/ 391)۔
و في الدر المختار: وهل ارث الحي من الحي ام من الميت؟ المعتمد: الثاني شرح وهبانية اھ (6/ 759)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وهل إرث الحي من الحي إلخ) أي قبيل الموت في آخر جزء من أجزاء حياته اھ (6/ 758)۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0