عزت مآب جناب مفتی صاحب (سائٹ بنوریہ کراچی) السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
جناب عالی ! میں مسمی ۔۔۔۔ سکنہ مکان ۔۔۔۔۔۔، بلد یہ ٹاؤن کراچی، آپ کی توجہ چند شرعی لحاظ سے قرآن وسنت کے حصوں پر تقسیم پراپرٹی کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ،اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ صاحبان مہربانی کر کے فدوی کے گزارشات و فریاد پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے اپنی حیاتی میں تمام بچوں و بیوی کو جائیدادو املاک کی تقسیم کے متعلق قرآن وسنت کی روشنی میں ہدایت فرمائیں، جس کے لیے فدوی آنجناب کے ممنون و مشکور ہوں گا۔
مسئلہ یہ کہ فدوی کے پانچ بیٹے ہیں، اور پانچ بیٹیاں ہیں ،اور فدوی اپنی حیات میں اپنے بچوں کو شرعی لحاظ سے اپنی جائیداد و املاک تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لہذا گزارش کی جاتی ہے کہ آپ صاحبان قرآن وسنت کے روشنی میں طریقہ کار بتائیں، جس کے لیے فدوی آنجناب کے شکر گزار ہوں گا۔
نوٹ: بیوی بھی زندہ ہے ،
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہاء مالک ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں، اب اگر کوئی اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ ورثاء میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو شرعاً یہ بھی جائز ہے۔
اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ کہلاتا ہے، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے ،وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد اور بیوی کے درمیان تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تا کہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو سکے،محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہے،پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب اولاد کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ،کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے،البتہ کسی کی خدمت گذاری، محتاجی یا دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا اسے اختیار ہے ،مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے،کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى اھ (4/ 391)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم (5/ 4012)۔
و في حاشية ابن عابدين: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (4/ 444)۔
و في الدر المختار: في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى (5/ 696)۔
و في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690) واللہ اعلم بالصواب!
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0