السلام علیکم! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ سے وصیت لکھوانے کی التماس ہے،گھرانے کے ورثاء اور املاک کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
(1) :والد ِمحترم (حیات) (۲): والدہ(مرحومہ)، (۳): تمام اولاد حیات ہے جن میں (۵) بیٹے اور (۵) بیٹیاں شامل ہیں، (۴) بیٹے (۴) بیٹیاں شادی شدہ ہیں ،(۴): میرےنام سے دو مکان ہیں، ایک اورنگی ٹاؤن اور ایک نارتھ کراچی میں ہیں ،(۵) :میری بیوی کے نام سے بھی ایک مکان اورنگی ٹاؤن میں ہے، دو دکانیں نارتھ کراچی میں ہیں، اس مکان میں والدہ سمیت ہم سب رہتے ہیں ، اور دوکان بند ہے خالی پڑی ہوئی ہے۔
(۵): میرا جو گھر نارتھ کراچی میں ہے ،اس زمین پر میرے دو بیٹوں اور میری مرحومہ بیوی کا سرمایہ لگا ہوا ہے، آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میں انہیں صرف جو سرمایہ اُنہوں نے لگایا تھا وہ دینے کا مجاز ہوں یا پھر اس سے زیادہ دینے کا؟ اگرچہ انہوں نے سرمایہ میری اجازت کے بغیر لگایا تھا، اور اس وقت قرض یا لینے دینے کی صراحت نہیں کی گئی تھی،البتہ ذہن میں یہ تھا کہ جن کا سرمایہ لگا ہے ان کو دید یا جائے گا۔
(۷): مندرجہ بالا نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ مجھے شرعی وصیت لکھ کر دیں آپ کی مہربانی ہوگی ۔
(۸) :جن بیٹوں کا سرمایہ لگا ہے اُن کے نام یہ ہیں ،(1): سید افسر علی (۲) :سید شاہد علی ۔
واضح ہو کہ جب مذکور بیٹوں اور مرحومہ نے یہ اخراجات قرض اور واپس لینے کی صراحت سے نہیں کیے تھے، تو انہیں یہ اخراجات واپس لوٹانا یا موجودہ قیمت کے اعتبار سے دینا شرعاً لازم نہیں،البتہ والد محترم اپنی مرضی سے انہیں جتنا دینا چاہیں دے سکتے، ہیں، اس کے بعد واضح ہو کہ اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے ہر شخص اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے اور اپنی مرضی سے اس میں تصرف کا مجاز ہوتا ہے، ہاں اگر وہ اُسے تقسیم کرے تو یہ شرعاً " ہبہ " (گفٹ) کہلاتا ہے اور اس میں اولاد کے درمیان برابری بہتر اور مستحب ہے ، اب اگر سائل اپنی جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے ،تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے ایک محتاط اندازہ کے موافق جو کچھ رکھنا چاہے، وہ کچھ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد پر برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ اُسے حوالہ کر کے اس پر مالکا نہ قبضہ بھی دیدے۔ البتہ اگر ان میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کی زیادہ خدمت گزاری، دینداری یا ضرورت مند ہونے یا تعمیرِ مکان میں حصہ ڈالنے وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے ،مگر بلاوجہ وہ کسی بیٹے یا بیٹی کو محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى اھ (4/ 391)۔
و في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) (5/ 690)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0