کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین بھائی ہیں، بڑے محمد صابر ، ان سے چھوٹے عبد الخالق اور میں سب سے چھوٹا اور ایک بہن تھی ،ہمارے والدین اور بہن کا انتقال بہت پہلے ہی ہو گیاتھا،بعد ازاں بڑے بھائی محمد صابر کا گیارہ اکتوبر 2002 ء میں انتقال ہو گیا تھا،چونکہ بڑے بھائی محمد صابر کی کوئی بیوی بچے نہیں تھے، اس لئے ان کے بعد میں اور دوسرے بھائی عبد الخالق رہ گئے تھے،ہم تینوں بھائیوں کے علیحدہ علیحدہ تین دکان تھے، ان میں ایک مکان نمبر 386 میں بڑے بھائی محمد صابر ، دوسرے مکان نمبر 387 میں میں ،اور تیسرے مکان جو کہ دوسری گلی میں واقع تھا،میں عبد الخالق رہتے تھے،چونکہ بڑے بھائی محمد صابر اکیلے تھے ،اور شروع سے ہی میرے ساتھ رہتےتھے ،ان کا پلاٹ میرے ہی پلاٹ کے ساتھ منسلک تھا ۔ اس کی تعمیر بھی میرے پلاٹ نمبر 207 کے ساتھ ایک یونٹ کے طور پر ہوئی تھی، اس لئے ان کی دیکھ بھال اور خدمت میں اور میری بیوی بچے ہی کیا کرتے تھے، بڑے بھائی محمد صابر نے اپنی زندگی ہی میں اپنا مکان نمبر 386 میرے نام پر ہبہ (گفٹ) دو گواہوں کی موجودگی میں وکیل کی معرفت جو ڈیشنل پیپر کے ذریعہ کر دیا تھا ،یہ کارروائی انہوں نے بلا کسی جبر یاد باؤ کے اپنی خوشی سے میری اور میرے بچوں کی خدمت گزاری کی وجہ سے کی تھی، اس طرح اس مکان کے لیز کے اوریجنل کاغذات ، گفٹ ڈیڈ کے ساتھ مکان کا قبضہ بھی مجھے دیدیا تھا۔ اور بعد میں وہ میرے مکان نمبر 387 میں شفٹ ہو کر میرے ساتھ رہنے لگے۔ ان کی دیکھ بھال ، علاج معالجہ اور کھانے پینے کی ضروریات میں اور میری بیوی بچے ہی کرتے رہے اور اکتوبر 2002ء کو انہوں نے میرے ہی مکان نمبر 387 میں وفات پائی، ان کی تکفین و تدفین کے بھی میں نے اپنے ہی مکان میں انتظامات کیے ، دوسرے بھائی عبد الخالق کا انتقال مارچ 2010ء میں طویل علالت کے باعث ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ہی ان کی اولاد خاص طور پر ان کے بیٹوں نے مرحوم تایاکے مکان نمبر 386 جو کہ میری ملکیت اور قبضہ میں ہے، بڑے بھائی محمد صابر نے بذریعہ ہبہ (گفٹ) اپنی تمام تصرفات سے خالی کر کے دو گواہوں کی موجودگی میں دیا تھا ، اس جائیداد پر اپنا آدھا حصہ بطور حق لینے کا مطالبہ کیا ہے،اور دعویٰ کیا ہے، بصورتِ دیگر وہ کیس کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ان کا یہ مطالبہ اور دعویٰ شرعی اور قانونی طور پر درست اور جائز ہے ؟ جبکہ میرے بھائی محمد صابر اپنی زندگی میں اس جائیداد کا مکمل طور پر مالک اور مختار بنا کر بذریعہ ہبہ ( گفٹ) مکان خالی کر کے مجھے قبضہ اور کا غذات دے کر میرے مکان نمبر 387 میں شفٹ ہوگئے تھے۔ براہِ کرم مجھے بتایا جائے کہ اس ہبہ نامہ (گفٹ) کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے ؟ یہ مطالبہ میرے بھتیجوں نے تایا کے دس اور اپنے باپ کے مرنے کے ایک سال بعد کیاہے ، جبکہ انہوں نے دونوں کی زندگی میں کبھی یہ مطالبہ اور دعوی نہیں کیا تھا۔ جبکہ ان کے علم میں یہ بات تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی میں مکان نمبر 386 میرے نام گفٹ کر دیا تھا۔ ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ بڑے بھائی اپنی وفات تک میرے مکان نمبر 387 میں ہی رہائش پذیر تھے۔
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے صدق و کذب کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ اگر محمد صابر مرحوم کی ملکیت میں صرف مذکور مکان ہی تھا ،تو جب انہوں نے بقائمیِ ہوش و حواس اپنی مرضی و خوشی سے سائل کو ہبہ کر دیا تھا ،اور اپنا تصرف ختم کر کے باقاعدہ قبضہ بھی دے دیا تھا ،تو اس طرح کرنے سے مذکور مکان نمبر 386 شرعاً بھی سائل کی ملکیت ہو چکا ہے،اب سائل کے بھتیجوں کا اس میں اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، انہیں اپنے اس غیر شرعی و غیر قانونی طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے، اور اگر مذکور مکان کے علاوہ کوئی اور چیز بھی مرحوم کی ملک تھی تو وہ ان کا ترکہ شمار ہو کر ورثاء میں ان کے حصص کے مطابق تقسیم ہوگی، جس کی وضاحت کر کے حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما فى الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء. (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) اھ (5/ 688)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0