۱: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، اس نے پیچھے تین بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوہ چھوڑی ہے، مرحوم کی وراثت ازروئے شریعت کیسے تقسیم ہوگی ؟
۲: مرحوم کی زمین بھی ہے، اس میں سے کچھ زمین مرحوم کے دو بیٹوں کے نام ہے، اور کچھ زمین مرحوم کے اپنے نام ہے، اس کی تقسیم از روئے شریعت کیسے ہوگی؟
۳: مرحوم نے اپنی زندگی میں چند پلاٹ اپنے بیٹوں کے نام خریدے تھے ،اور ان کی پوری رقم ادا کر دی ہے ، اور چند پلاٹ اپنی بیٹیوں کے نام خریدے تھے ،ان کی کچھ رقوم ابھی تک باقی رہتی ہیں ، آیا رقوم مرحوم کے قرضے میں سے شمار کی جائینگی یا نہیں؟ از روئے شریعت تفصیل سے جواب فرمائیں ۔
نوٹ: والدِ مرحوم کی جائیداد میں سے جو انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں میں سے جس کو دیا ،یا ان کے نام سے خریدا، اس میں باضابطہ مالکانہ حقوق بیٹے بیٹی کو نہیں دیے ، بلکہ فقط کاغذی کا روائی میں ان کے نام تھے ۔ مرحوم کی والدہ ہماری دادی ابھی حیات ہیں ۔
واضح ہو کہ مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو اپنی جائیداد میں سے جو کچھ دے کر اس پر اسے باضابطہ مالک وقابض بھی بنا دیا تھا ،تو وہ شرعاً بھی اسی بیٹے یا بیٹی کی ملک ہو چکی ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں ، البتہ جو جائیداد وغیرہ کسی بیٹے یا بیٹی کو باضابطہ مالک وقابض بنا کر نہیں دی، بلکہ محض زبانی کلامی یا صرف کاغذوں میں نام کر دی گئی ہو تو اس طرح کرنے سے یہ ہبہ شرعاً تام نہ ہوگا، بلکہ وہ چیز بدستور مرحوم کی ملک میں رہ کر اب ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی، جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ مرحوم نے اپنی مملوکہ جائیداد باضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ کسی بیٹے یا بیٹی کو نہیں دی، بلکہ اولاد کے نام صرف کاغذی کاروائی کی ہے، اس لئے مذکور زمین و پلاٹ وغیرہ حسبِ سابق ان کی ملکیت رہ کر اب اس کے انتقال پر تمام ورثاء میں بقدرِ حصصِ تقسیم ہوگی ۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقول غیر مال و جائیداد ، سونا چاندی، نقدی، زیورات اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمے کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے برابر (216) حصے کر کے مرحوم کی ماں کو (36) حصے، مرحوم کی بیوہ کو (27) حصے ، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو (34) حصے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو (17) حصے دیدیں ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0