احکام وراثت

والد نے زندگی میں مکان بیٹے کے نام کیا ہو تو وہ کس کی ملکیت ہوگا؟

فتوی نمبر :
83685
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد نے زندگی میں مکان بیٹے کے نام کیا ہو تو وہ کس کی ملکیت ہوگا؟

۱: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، اس نے پیچھے تین بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوہ چھوڑی ہے، مرحوم کی وراثت ازروئے شریعت کیسے تقسیم ہوگی ؟
۲: مرحوم کی زمین بھی ہے، اس میں سے کچھ زمین مرحوم کے دو بیٹوں کے نام ہے، اور کچھ زمین مرحوم کے اپنے نام ہے، اس کی تقسیم از روئے شریعت کیسے ہوگی؟
۳: مرحوم نے اپنی زندگی میں چند پلاٹ اپنے بیٹوں کے نام خریدے تھے ،اور ان کی پوری رقم ادا کر دی ہے ، اور چند پلاٹ اپنی بیٹیوں کے نام خریدے تھے ،ان کی کچھ رقوم ابھی تک باقی رہتی ہیں ، آیا رقوم مرحوم کے قرضے میں سے شمار کی جائینگی یا نہیں؟ از روئے شریعت تفصیل سے جواب فرمائیں ۔
نوٹ: والدِ مرحوم کی جائیداد میں سے جو انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں میں سے جس کو دیا ،یا ان کے نام سے خریدا، اس میں باضابطہ مالکانہ حقوق بیٹے بیٹی کو نہیں دیے ، بلکہ فقط کاغذی کا روائی میں ان کے نام تھے ۔ مرحوم کی والدہ ہماری دادی ابھی حیات ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی وغیرہ کو اپنی جائیداد میں سے جو کچھ دے کر اس پر اسے باضابطہ مالک وقابض بھی بنا دیا تھا ،تو وہ شرعاً بھی اسی بیٹے یا بیٹی کی ملک ہو چکی ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں ، البتہ جو جائیداد وغیرہ کسی بیٹے یا بیٹی کو باضابطہ مالک وقابض بنا کر نہیں دی، بلکہ محض زبانی کلامی یا صرف کاغذوں میں نام کر دی گئی ہو تو اس طرح کرنے سے یہ ہبہ شرعاً تام نہ ہوگا، بلکہ وہ چیز بدستور مرحوم کی ملک میں رہ کر اب ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی، جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے کہ مرحوم نے اپنی مملوکہ جائیداد باضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ کسی بیٹے یا بیٹی کو نہیں دی، بلکہ اولاد کے نام صرف کاغذی کاروائی کی ہے، اس لئے مذکور زمین و پلاٹ وغیرہ حسبِ سابق ان کی ملکیت رہ کر اب اس کے انتقال پر تمام ورثاء میں بقدرِ حصصِ تقسیم ہوگی ۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقول غیر مال و جائیداد ، سونا چاندی، نقدی، زیورات اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمے کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے برابر (216) حصے کر کے مرحوم کی ماں کو (36) حصے، مرحوم کی بیوہ کو (27) حصے ، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو (34) حصے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو (17) حصے دیدیں ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہنواز قائم الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83685کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات