جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
قرآن و حدیث کی روشنی میں ر ہنمائی فرمائیے۔
زید کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں (ایک شادہ شده اور دوسری غیر شادی شدہ) بیوی، ماں باپ ہیں، بڑی بیٹی کو مکان کی ضرورت ہوئی تو زید نے اپنی کل وراثت کا حساب لگایا وراثت کے فارمولے کے مطابق زید نے بڑی بیٹی کے حصے کے برابر رقم سے مکان خرید کر اُس کے حوالے کر دیا، جبکہ دوسرے ورثاء کا حصہ تقسیم نہیں کیا ،اور بڑی بیٹی سے تحریر بھی حاصل کر لی ،جس کی کاپی منسلک ہے۔
۱:زید کے پاس جو مال باقی ورثاء کا بچ رہےگا، کیا اس میں مستقبل میں ہونے والے اضافہ میں بڑی بیٹی کا کوئی حصہ ہوگا؟
۲:زید کے انتقال کے بعد کیا وراثت میں بڑی بیٹی کا کوئی حصہ ہوگا؟
منسلکہ تحریر:
میں (موجودہ رہائشی پتہ کراچی) بلا کسی جبر و اکراه بہ ہوش و حواس اپنی رضامندی اور خوشی سے اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ میرے والدین نے مجھے اپنی جائیداد و وراثت میں سے جو میرا حصہ مجھے دیا ہے جو کہ ایک مکان کی صورت میں ہے۔ جس کی مالیت میں نے وصول کر لی ہے۔
لہٰذا اب میں اپنی والدہ اور والد کی بالواسطہ یا بلا واسطہ جائیداد ، نقد، سونا، زیور وغیرہ یا ان کی زندگی میں ہونے والی ان کی مزید آمدنی اور اس سے بننے والی مزید کسی بھی جائیداد ، نقد ، سونا، زیور، جائیداد وغیرہ سے دست بردار ہوتی ہوں اور ان کی وفات کے بعد ان کے ترکہ سے کسی بھی قسم کا کوئی حصہ نہ لینے کی پابند ہونگی اور ان کو ورثاء سے کسی کسی بھی قسم کا مطالبہ کرونگی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص مسمی زید نے اپنی حیات میں جو مکان دیا ہے، وہ اس کی طرف سے ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے ،وہ میراث کا بدل نہیں، اس لئے مسمی زید کی وفات کے بعد وہ بدستور اس کے ترکے میں حقدار ہوگی، الا یہ کہ موصوف اپنی حیات میں دیگر ورثاء میں اپنا کل ترکہ تقسیم کر دے ،اور ہر ایک کو اس کے حصے کا مالک بنا دے، اور مذکور بیٹی کو مزید کچھ بھی نہ دے تو اس کا اسے اختیار ہے، اور ایسا کرنے کی صورت میں وہ شرعا گناہ گار نہ ہوگا۔
ففي شرح لمجلة : يملك الموهوب له الموهوب بالقبض وھو شرط لثبوت الملک اھ (۱/ ۴۷۳)۔
و في تكملة حاشية رد المحتار: الارث جبري لا يسقط بالاسقاط. (2/ 116)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0