السلام علیکم! جس مکان کی تقسیم کا مسئلہ ذیل میں تحریر کیا جارہا ہے ، یہ ہم سب بھائیوں کی محنت مزدوری سے تیار ہوا ہے، والد مرحوم کے ترکہ کا مکان نہیں، اور اب ہم چھ بھائی ، دو بہنیں اور والدہ ہیں اس مکان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔
ہم چھ بھائی ،دو بہنیں اور ایک والدہ اس مکان کی قیمت اس کی ویلیو کے مطابق لگا کر اس کی تقسیم کرنا چاہتے ہیں قرآن و سنت کے حوالے سے اس کا طریقہ معلوم کرنا ہے ۔
صورت مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو، اور اب یہ بھائی اس مکان پر واقعی اخراجات اور کسی کے کم یا زیادہ خرچ کرنے سے قطع نظر کرتے ہوئے اسے باہم تقسیم کرنا چاہتے ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہےکہ اسے نو (۹) برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر بھائی بہن اور والدہ کو ایک ایک حصہ پر مالکانہ قبضہ بھی دیدیں، پھر اگر اتنے حصے کرنے سے یہ مکان قابل رہائش نہ رہتا ہو تو اتنے حصے تسلیم کر کے اسے نو شرکاء میں مشترک جائیداد تصور کیا جائے، اور اسے باضابطہ تحریری شکل بھی دیدی جائے ۔ اور اگر اس مکان کے علاوہ بھی ہر ایک کے لیے رہائش کا انتظام ہو تو پھر اسے بیچ کر اس کی قیمت کو نو (۹) حصوں میں برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو ایک حصہ کی قیمت دیدی جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2