کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃحلیمہ بائی محمد یوسف کی اکلوتی اولاد اس کی بیٹی ہے، جب انہوں نے اس کی شادی کی تو اس وقت وہ بیوہ ہو گئیں تھیں ،حلیمہ تن تنہا تھی،بھائی بہن اپنے اپنے گھر کے تھے ، اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے حلیمہ بائی اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ رہتی تھیں،کچھ عرصے کے بعد حلیمہ بائی نے فیڈرل بی ایریا میں ایک مکان خریدا، جس کے لئے آدھی سے زائد رقم داماد سے لی، تاکہ وہ یہ مکان خرید سکیں ،داماد نے یہ رقم ان کو دی اور انہوں نے وہ مکان خرید لیا، کچھ عرصے کے بعد داماد کو پتہ لگا کہ اُس کو کینسر ہے، تو اُس نے اپنا ذاتی مکان جوکہ گھڑی مارکیٹ میں واقع تھا، بیچ دیا مکان کی رقم سے فیڈرل بی ایریا والے پلاٹ کے اوپر ایک منزل بنوائی، داماد کا کچھ عرصے بعد انتقال ہو گیا ، مسماۃ حلیمہ بائی نے کپڑے سی سی کر اور سخت اور محنت مزدوری کر کے ، بیٹی اور اس کے چار بچوں کی تن تنہا پرورش کی ، انہوں نے اپنی زندگی ہی مذکورہ مکان کو مندرجہ ذیل افراد کی موجودگی میں ہبہ کر دیا ،مسماۃ حلیمہ بائی کا 1985 میں انتقال ہوگیا ، چونکہ یہ خاندان میمن فیملی سے تعلق رکھتا ہے ،اب مذکورہ مکان کو اب بیٹی کے نام کروانا ہے ، جماعت کا یہ کہنا ہے کہ فتویٰ لے آئیں ، مکان آپ کے نام کر دیتے ہیں۔ براہ کرم فتوی صادر فر مائیں ۔
نوٹ : مذکور مکان میں داماد نے رقم محض رشتہ داری اور باہمی امداد کے طور پر شامل کی تھی،گواہان کے نام نسیمہ زوجہ محمد قاسم (۲): عبد الرؤف ولد علی محمد (۳): آمنہ (۴): سلمیٰ بانو۔
صورتِ مسئولہ میں مسماۃ حلیمہ بائی مرحومہ نے اگر واقعۃً مذکور مکان اپنی بیٹی اور اس کی اولاد کو ہبہ (گفٹ) کر کے اس پر انہیں باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیا تو وہ شرعاً بھی ان کی ملک ہو گیا ہے، لہذا جماعت کو بھی چاہیئے کہ وہ ورثاء اور گواہوں کی سچائی پر اعتماد کرتے ہوئے مذکور مکان مرحومہ کی بیٹی اور اس کی اولادکے نام کروا دیں ، اور ایسا کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
ففي الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0