احکام وراثت

زندگی میں مکان بیٹی کے نام کرنے سے کیا اس کی ملکیت ثابت ہوجائے گی ؟

فتوی نمبر :
83817
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

زندگی میں مکان بیٹی کے نام کرنے سے کیا اس کی ملکیت ثابت ہوجائے گی ؟

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃحلیمہ بائی محمد یوسف کی اکلوتی اولاد اس کی بیٹی ہے، جب انہوں نے اس کی شادی کی تو اس وقت وہ بیوہ ہو گئیں تھیں ،حلیمہ تن تنہا تھی،بھائی بہن اپنے اپنے گھر کے تھے ، اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے حلیمہ بائی اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ رہتی تھیں،کچھ عرصے کے بعد حلیمہ بائی نے فیڈرل بی ایریا میں ایک مکان خریدا، جس کے لئے آدھی سے زائد رقم داماد سے لی، تاکہ وہ یہ مکان خرید سکیں ،داماد نے یہ رقم ان کو دی اور انہوں نے وہ مکان خرید لیا، کچھ عرصے کے بعد داماد کو پتہ لگا کہ اُس کو کینسر ہے، تو اُس نے اپنا ذاتی مکان جوکہ گھڑی مارکیٹ میں واقع تھا، بیچ دیا مکان کی رقم سے فیڈرل بی ایریا والے پلاٹ کے اوپر ایک منزل بنوائی، داماد کا کچھ عرصے بعد انتقال ہو گیا ، مسماۃ حلیمہ بائی نے کپڑے سی سی کر اور سخت اور محنت مزدوری کر کے ، بیٹی اور اس کے چار بچوں کی تن تنہا پرورش کی ، انہوں نے اپنی زندگی ہی مذکورہ مکان کو مندرجہ ذیل افراد کی موجودگی میں ہبہ کر دیا ،مسماۃ حلیمہ بائی کا 1985 میں انتقال ہوگیا ، چونکہ یہ خاندان میمن فیملی سے تعلق رکھتا ہے ،اب مذکورہ مکان کو اب بیٹی کے نام کروانا ہے ، جماعت کا یہ کہنا ہے کہ فتویٰ لے آئیں ، مکان آپ کے نام کر دیتے ہیں۔ براہ کرم فتوی صادر فر مائیں ۔
نوٹ : مذکور مکان میں داماد نے رقم محض رشتہ داری اور باہمی امداد کے طور پر شامل کی تھی،گواہان کے نام نسیمہ زوجہ محمد قاسم (۲): عبد الرؤف ولد علی محمد (۳): آمنہ (۴): سلمیٰ بانو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مسماۃ حلیمہ بائی مرحومہ نے اگر واقعۃً مذکور مکان اپنی بیٹی اور اس کی اولاد کو ہبہ (گفٹ) کر کے اس پر انہیں باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیا تو وہ شرعاً بھی ان کی ملک ہو گیا ہے، لہذا جماعت کو بھی چاہیئے کہ وہ ورثاء اور گواہوں کی سچائی پر اعتماد کرتے ہوئے مذکور مکان مرحومہ کی بیٹی اور اس کی اولادکے نام کروا دیں ، اور ایسا کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی سیف اللہ جمیل رحمہ اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83817کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات