بخدمت جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی!
جناب عالی السلام علیکم!
بعد از سلام عرض ہے کہ ہمارا ایک مکان تقریباً 45 گز کا گجرات کالونی بلد یہ ٹاؤن میں ہے، اور جس کےچھ (۶) وارث مندرجہ ذیل ہیں؛
(1) والدہ، (۲) تین بھائی اور 2 بہنیں ہیں۔ ٹوٹل چھ۔
ہماری والدہ جو کہ بستر پر بیمار ہے، اپنی زندگی میں گھر کا حصہ کرنا چاہتی ہے، اس لئے آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ شریعت کے حساب سے کس کا کتنا حصے ہوگا ؟ برائے مہربانی اس سلسلے میں فتوی ارشاد فرمائیں ۔
(2): ہمارے والد صاحب کا انتقال تقریباً 20 سال پہلے ہو چکا ہے۔
(3) :یہ مکان ہمارے والد صاحب نے 30 سال پہلے ہماری والدہ کو جو اپنے والد کی وراثت کے پیسے ملے تھے، اُن پیسے سے خریدا تھا، اور والد صاحب کے انتقال پر بھی کاغذات میں والد صاحب کے نام پر تھا، اور اب بھی ہےاس لئے آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں ہماری مدد کی جائے کہ کس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
نوٹ : ہماری والدہ کو مذکور رقم والد کے ترکہ میں ملی تھی۔ فقط آپ کا خدمت گزار
تنقيح : والدہ نے اپنے شوہر کو جو رقم مکان کی خریداری کے لئے دی تھی، کس نسبت سے دی تھی قرض دیا تھا یا اپنے نام مکان خریدنے کے لئے یا اسے ہدیہ دیا تھا ؟
اور والد نے اس پر کیا جواب دیا تھا؟ براہِ کرم ان دونوں باتوں کی مکمل وضاحت کر کے اس سوال کو دوبارہ دار الافتاء بھیج دے ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کر دیا جائیگا۔
جواب تنقیح:
جناب عالی: ہماری والدہ نے یہ رقم مکان خریدنے کے لئے دی تھی ۔ اور کبھی بھی قرض کا ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی رقم لینے کی بات کی۔
محترم سائل : مذکور مکان اگر واقعۃً آپ کی والدہ کی ملک ہے،اور اس نے مکان کی خریداری کے لئے مذکور رقم بھی اپنے شوہر کو دیدی ہو ،اور اس رقم کا اسے مالک شرعی نہ بنایا ہو تو اس صورت میں والد مرحوم کا اپنے نام خرید نے سے والدہ کی ملکیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ،بلکہ یہ مکان والدہ کی ملک ہی ہے،اور اگر اب وہ اس مکان کو اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتی ہے تو یہ عمل بھی بلا شبہ جائز اور شرعاً ہبہ کے حکم میں ہے ۔
جس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ ان موجو د ورثاء میں سے جس وارث کو جتنا حصہ دینا چاہتی ہے دے سکتی ہے ، مگر یہ عمل چونکہ ہبہ کہلاتا ہے ۔ اور ہبہ کی صحت اور درستگی کے لئے مالکانہ قبضہ دینا شرعا ضروری ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ سے اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر دیگر جائیداد وغیرہ کے برابر پانچ حصے بنا کر ہر بیٹے اور بیٹی کو ایک حصہ دیکر اس پر اسے مالکانہ قبضہ بھی دیدے محض کاغذوں میں نام کرنا کافی نہیں ، اب اگر وہ کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی محتاج گی، خدمت گزاری اور تابعداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ بھی دینا چاہے تو بلا شبہ دے سکتی ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم کر دینا گناہ کی بات ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0