کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام ،اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والدین زندہ ہے، اور اپنے حیات ہی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ ہم پانچ بھائی ہے اور چھ بہنیں ہے، لہذا اس صورت میں شریعت مطہرہ میں جو حکم تقسیم کا ہو اُس کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما کر عند الله مأجور ہو، اللہ تعالٰی ثواب دارین نصیب فرمائیں ۔
(نوٹ) واضح رہے کہ ہمارے دو بھائیوں اور چار بہنوں کی شادی والد صاحب نے کی ہے ،باقی غیر شادی شدہ ہیں ، تو کیا ان غیر شادی شدہ کی شادی کے اخراجات بھی والد برداشت کرینگے، یعنی تقسیم سے پہلے ہی جائیداد مشتر کہ سے ہی اخراجات ادا کئے جائیں، جبکہ والد کا لکھا ہوا عہد نامہ منسلکہ ہے ۔
منسلکہ عہد نامہ :
فریق اول - مسمی ۔۔۔۔۔۔یہ فیصلہ اپنے بچوں کے درمیان بنوری ٹاؤن کے مفتیان صاحبان کے حوالے کرتا ہوں کہ جو میری جائیداد ہے ، وہ میں از روئے شریعت بنوری ٹاؤن سے اُس کا فیصلہ کروانا چاہتا ہوں ۔ جس پر میرے بچوں کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ یہ چند حروف لکھ دئے، تا کہ سند رہے ۔ جس پر مذکورہ میرے بیٹوں کے دستخط ہیں۔
والد : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا : ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
سب کی دستخط کے ساتھ۔
سائل کے والدین اگر اپنی صحت والی زندگی میں اپنا مال و جائیداد وغیرہ بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں ، تو ان کا یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور اس طرح تقسیم شرعاً ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، اور اس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ والدین ایک محتاط اندازے سے اپنے لئے جو کچھ رکھنا چاہیں وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد کے برابر حصے کر کے ہر ایک بیٹے اور بیٹی کو ایک ایک حصہ دے کر اُسے مالکانہ قبضہ بھی دیدیں ، اور اگر وہ ان میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کو محتاجی ، دینداری یا خدمت گزاری کی بنا پر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلاوجہ کسی اولاد کو بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه و في صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. و في الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، و في التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم اھ (4/ 444)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0