میری والدہ کی خواہش ہے کہ اس کی ملکیت اس کی موت کے بعد میری بڑی بہن اور مجھ میں برابر تقسیم ہو، میری والدہ کے والدا اور والدہ وفات پا چکے ہیں، ان کی دو بہنیں ہیں اور ان کے بچے ہیں ، ان کے دو سوتیلے بھائی وفات پا چکے ہیں، لیکن ان کے بچے زندہ ہیں، میری بڑی بہن کا ایک لڑکا ہے، کیا ان حالات میں میری والدہ کی خواہش شریعت کے مطابق ہے ؟ اگر نہیں ہے تو آپ ہر وارث کا جائز حصہ بتائیں۔
سائلہ کی والدہ اپنی حیات میں اپنی تمام مال و جائیداد کی تنہا مالکہ ہے اور اپنی مرضی سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے جو چاہیئے اس میں تصرف کر سکتی ہے، اب اگر وہ زندگی میں ہی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ بچا کر رکھنا چاہتی ہو وہ کچھ رکھ لے اور باقی اپنے تمام ورثاء میں برابر اور باضابطہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ تقسیم کر کے دے, محض کا غذوں میں نام کرنا شرعاً کافی نہیں ، اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ اور اس کی مذکور بہن ہی اپنی والدہ کے ورثاء میں سے نہیں ،بلکہ والدہ کی بہنیں بھی وارث ہیں اور وارث کے حق میں وصیت دیگر ورثاء کے عاقل بالغ ہونے اور ان کی رضامندی کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتی، اس لئے ان کی والدہ کو چاہئیے کہ اس طرح وصیت کرنے سے احتراز کر کے ہر بیٹی کو مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق زندگی میں ہی جو کچھ دینا چاہے مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى اھ (4/ 444)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0