محترم جناب مفتی صاحبان،السلام علیکم ورحمۃ الله بركاتہ!کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ ،زید نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کردی، لڑکوں کو دو حصے ، لڑکیوں کو ایک، لڑکوں کو ایک ایک مکان جس میں دو کمرے، غسل خانہ باورچی خانہ، اور لڑکیوں کو مکان و دکان کم قیمت کے۔ بیوی کو جس مکان میں شروع سے رہائش ہے کئی سال پہلے سر کاری طور پر بیوی کے نام کروادیا تھا، اب اہلیہ کیا اپنی مرضی سے اس میں تصرف کر سکتی ہے کہ کسی اولاد کو زیادہ اور کسی کو کم اور کسی کو کچھ نہ دے ، وضاحت فرماد لیجئے، بينوا توجروا ، والسلام ۔
شخص مذکور مسمی زید نے اگر مذکور مکانات اور دیگر اشیاء اپنی بیوی اور اولاد کے محض نام نہ کئے ہوں، بلکہ انہیں باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا ہو تو وہ سب اشیاء ان کی ملک ہو چکی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے اس میں جو چاہے تصرف کرنے کے مجاز ہیں ورنہ یہ سب بدستور زید کی ملک ہونے کی وجہ سے اس کی وفات پر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوں گی جس کی تفصیل ورثاء کی وضاحت کر کے معلوم کی جاسکتی ہے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)
و في الفتاوى الهندية: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا هكذا في المحيط اھ (4/ 377)۔
و في شرح المجلة : تنعقد الهبة بالايجاب والقبول و تتم بالقبض اھ (۴/ ۳۴۴)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0