محترم جناب مفتی صاحب، السلام و علیکم !
آپ کی خدمت میں میرا یہ سوال وراثت سے متعلق ہے کہ میرے والد صاحب نے ایک قطعہ زمین 200 مربع گز میری والدہ کے نام الاٹ کروایا تھا اور اس زمین کی قیمت میرے والد صاحب اور بھائیوں کے تعاون سے ادا کی گئی تھی اور پھر مکان کی تعمیر کے دوران والد صاحب سعودی عرب میں طویل مدت ملازمت کرتے رہے اور جو کچھ کمایا پاکستان بھیجتے رہے، اس طرح مکان کی تعمیر میں بھی بھائیوں نے تعاون کیا اس طرح مکان کی تعمیر پایہ تکمیل تک پہنچی، ہم پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں ،مکان تعمیر ہونے کے بعد ہم سب بھائی گزشتہ 25 سال سے اسی مکان میں قیام پذیر ہیں اور ہم سے کوئی کرایہ وغیرہ نہیں لیا جاتا۔ اس گھر میں میرے تین بھائیوں نے سوال اٹھایا ہے کہ چونکہ انہوں نے کچھ رقم مکان کی تعمیر میں لگائی تھی تو اس رقم کی مناسبت سے جائیداد مذکورہ میں زیادہ حصہ دیا جائے۔
ا ۔ میرے بڑے بھائی نے تقریباً 15 سال قبل 10 لاکھ روپے اس مد میں لے چکے ہیں ، ( جو مکان کی تعمیر میں حصہ انہوں نے ڈالا تھا )اس بارے میں علماءِ کرام کیا فرماتے ہیں۔
۲۔ بڑے بھائیوں نے چھوٹی بہن کی شادی میں بھی تعاون کیا۔
۳۔ میرے والد صاحب کا کہنا ہے میرے بیٹے عرصۂ حیات سے اس مکان میں قیام پذیر ہیں لہذا اس رقم کا مطالبہ مناسب نہیں۔
۴۔ میرے دو بڑے بھائیوں نے میری والدہ سے دستخط کروا کر مکان کے کاغذات اپنے نام بھی کروا لیے ہیں۔
۵۔ الحمد اللہ میرے والد اور والدہ حیات ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ شرعی اور قانونی لحاظ سے سب کو برابر کا حصہ ملے ۔ اور کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ مگر بھائی وراثت اپنی مرضی سے دینا چاہتے ہیں کیونکہ پراپرٹی اب ان کے نام ہے۔ اس بارے میں علماءِ کرام کیا فرماتے ہیں۔
مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں جو شرعی احکامات ہوں ان سے آگاہ کیا جائے تا کہ خاندان کسی الجھن کا شکار نہ ہو جائے ، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ جس کے لئے ہم آپ کے شکر گزار ہیں، جزاک اللہ مزید وضاحت: جن بھائیوں نے مکان کی تعمیر میں خرچہ کیا ہے وہ والد صاحب کی موجودگی میں کیا ہے ، اور اس وقت واپسی یا قرض کی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی۔
سائل کے جن بھائیوں نے مکان کی تعمیر اور بہن کی شادی میں والد صاحب کے ساتھ تعاون کیا تھا اگر تعاون کے وقت اس رقم کے متعلق والد سے قرض ہونے یا واپس لینے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہو رہا ہے، تو یہ اخراجات کرنا ان دونوں بیٹوں کی طرف سے والد پر تبرّع واحسان ہوا ہے ، اب اس احسان کے بدلے تقسیمِ جائیداد کے وقت دیگر بھائیوں سے زیادہ کا مطالبہ کرنا یا اس لگی ہوئی رقم کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ والد اپنی مرضی سے ان بیٹوں کو ان کی خدمات کے پیش نظر کچھ دینا چاہے تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر یہ ان پر لازم نہیں ، جن بھائیوں نے دھوکہ سے مذکور مکان اپنے نام کر کے اب دیگر بہن بھائیوں کو بلیک میل کر رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے اس طرزِ عمل سے باز آجائیں، بصورتِ دیگر بہن بھائی اپنے حق کی خاطر قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتے ہیں، جبکہ والدین کی زندگی میں ان کی رضامندی اور اجازت کے بغیر اولاد کو ان کی جائیداد تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، نہ ہی تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کر سکتے ہیں، البتہ اگر سائل کے والد اپنی خوشی سے اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو واضح ہو کہ صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے ہر آدمی اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، اور اس پر اس کی تقسیم لازم نہیں۔ ہاں اگر وہ تقسیم کرے تو یہ شرعاً" ہبہ " (گفٹ ) کہلاتا ہے ، اور اس میں اولاد کے درمیان برابری بہتر ہے، اب اگر سائل کے والد اپنی جائیداد وغیر ہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کی بہتر صورت یہ کہ سائل کے والد ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تا کہ یہ ہبہ شرعا بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو بر ابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے، البتہ کسی کی خدمت گذاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے، سائل کے بڑے بھائی نے جو رقم لی ہے اگر والد صاحب نے بخوشی ان کی خدمات کی بناء پر دی ہو تو یہ جائز اور درست ہے ورنہ اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں تو اس پر غور کے بعد حکمِ شرعی بھی بیان کیا جائے گا۔
كما في الدر المختار: وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد: الثاني شرح وهبانية اھ (6/ 758)۔
و في درر الحكام شرح مجلة الأحكام: المادة ( 1398 ) - إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا اھ (3/ 444)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والإعارة) (إلی قوله) شراه فشهد رجل على ذلك وختم، فهو ليس بتسليم يريد به أنه إذا شهد بالشراء أي كتب الشهادة في صك الشهادة، وختم على صك الشهادة ثم ادعاه صح دعواه، ولم تكن كتابة الشهادة إقرارا بأنه للبائع، وهذا لأن الإنسان يبيع مال غيره كمال نفسه، والشهادة بالبيع لا تدل على صحته جامع الفصولين في الرابع عشر اھ (5/ 596)۔
و في الدر المختار: و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (5/ 688)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
وفيه ايضاً : و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى اھ (5/ 696)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0