احکام وراثت

وارث کا مرحومہ کے ترکہ میں دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر تصرفات کرنا

فتوی نمبر :
84027
| تاریخ :
2025-07-09
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وارث کا مرحومہ کے ترکہ میں دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر تصرفات کرنا

محترمی ومکرمی جناب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ زید وفات سے قبل وراثت کے بارے میں ایک مسئلہ معلوم کرنا چاہتاہے مسئلہ کی تفصیل یہ ہےکہ انور صاحب کے 13 بچے ہیں 7 لڑکے اور 6 لڑکیاں ۔لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کا انتقال ہوگیا ہے اور انور صاحب کی بیوی کا بھی بیٹی کے انتقال کے دو سال بعد انتقال ہوگیا ہے بیوی کے انتقال کو تقریبا دس سال ہوگئے ہیں۔
انورصاحب کے پاس دو پلاٹ ہیں جن کی صرف چار دیواری ہے اور ایک تین منزلہ عمارت ,یہ تین منزلہ عمارت شروع سے ہے جس میں یہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں بیوی کا انتقال ہوگیاہےیہ تین منزلہ عمارت بیوی کےنام پہ یعنی بیوی کی ملکیت تھی۔جب بیوی کا انتقال ہوا اس وقت دو لڑکوں اور پانچ لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔بیوی کے انتقال کے بعد بچوں نے کسی مفتی سے معلوم کیا اور پھر سب بہن بھائی ایک جگہ جمع ہوئے اور سب نے فیصلہ کیا کہ ہم والدہ کی پلاٹ میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ اس کو والد صاحب کی ملکیت میں دیتے ہیں، یہ کہ کر اب اس مکان کی ملکیت والد صاحب کی طرف کردیا اس فیصلے پر سب بچے متفق تھے۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایک کر کے باقی سب لڑکوں اور لڑکیوں کی بھی شادیاں ہوگئیں ۔
بعض لڑکے اورلڑکیوں نے اپنے اپنے مکانات خرید کر وہاں رہنے لگے لیکن چار لڑکے اور انور صاحب ایک ہی مکان میں جو تین منزلہ ہے اسی میں رہ رہے ہین۔انور صاحب کے پاس جو دو پلاٹ ہیں ان میں سے ایک پلاٹ ان چار بچوں میں سے دو کو آدھا آدھاکم قیمتوں میں بیچ دیا ۔اب ایک پلاٹ باقی ہے۔
یہ مکمل تفصیل ہے
جن لڑکوں کے پاس اپنا گھر یا پلاٹ ہے ان کی تعداد 13 بھائی بہنوں میں سے 10 ہے باقی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے پاس رہنے کے لئے گھر یا پلاٹ نہیں ہیں،
ان تینوں کی زریعہ آمدنی بھی اتنی نہیں ہے کہ یہ تینوں اپنے لئے پلاٹ خرید سکیں( ایک بھائی دو بہنیں)۔
یہ دوبہنیں جودو بھائیوں نے آدھا آدھا پلاٹ خریدا ہے اس میں رہ رہے ہیں۔بغیر کسی معاوضہ کے۔
یہ دونوں بھائی اس تین منزلہ عمارت مین رہتے ہیں جس مین یہ کل چار بھائی اورانور صاحب اور انور صاحب کی نواسی رہتے ہیں
انورصاحب کی ایک نواسی بھی ہے انور صاحب نے اپنےبچوں کےساتھ نواسی کو بھی رکھا ہوا ہے یہان تک کہ برتھ سرٹیفیکیٹ بھی انور صاحب کے نام سے ہےَ
(اس کی والدہ کے ہاں پیدائش ہوئی تو والد صاحب چھوڑ کر چلے گئے پھر اس کی والدہ، اور یہ اسی گھر میں رہنے لگے ایک عرصہ تک اس کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کی والدہ کون ہے اور نانا نانی کو والد والدہ سمجھتی تھی)،
کچھ عرصہ بعد اس کی والدہ کی شادی ہوگئی ہے تو وہ اپنے گھر چلی گئی اور یہ اسی گھر میں رہتی ہے البتہ کچھ سال سے والد صاحب سے رابطہ ہوا ہے اس کے والد سعودیہ میں ہے اب رابطہ ہے اور ہدیہ وغیرہ کا لین دین بھی ہے۔

اب آتے ہیں سوالات کی طرف جو معلوم کرنا ہے:

سوال نمبر1:۔انور صاحب چاہتے ہیں کہ جو ایک پلاٹ باقی ہے وہ ان دوبیٹیوں کو ہدیہ کردیں جن کے پاس پلاٹ نہیں ہے لیکن جو ایک لڑکا ہے اس کو نہیں دے رہے۔کیا والد کا اپنےمال سے اس طرح صرف دو بیٹیوں کو دینا باقی کو نہ دینا،اسی طرح اگر ان دو بیٹیوں کو اس لئے دے رہے ہیں کہ ان کے پاس پلاٹ یا اتنی رقم نہیں ہے تو اس لڑکے کے پاس بھی نہیں ہے اس کی بھی یہی صورت حال ہے اس کو نہیں دے دہے تو شرعا والد صاحب کا ایسا کرنا کیسا ہے؟ کیا یہ دوسرےبچوں کے ساتھ نانصافی یاحق تلفی نہیں ہے ؟اس طرح دینے پر باقی اولاد بھی راضی نہیں لیکن والد کے احترام میں خاموش ہیں۔

سوال نمبر 2:۔ انور صاحب جس تین منزلہ عمارت میں رہ رہے ہیں جو پہلے ان کی بیوی کی ملکیت تھی بیوی کے انتقال پر بچوں نے والد کے ملکیت میں دے دی بخوشی رضا مندی سے اس کو بیچنا چاہتے ہیں اور سب بچے جو حیات ہیں ان کو حصہ دینا چاہتے ہیں لیکن اسی حصہ میں سے اپنی نواسی جو ساتھ رہ رہی ہے اس کے لئے شادی اور دیگر اخراجات کے لئے رقم رکھنے کے بعد سب بچوں کو حصہ دیں گے اس پر بچے راضی نہیں ہیں تو شرعا انور صاحب کا اس طرح کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر 3:- جب بچوں نے اعتراض کیاکہ آپ کسی کو پلاٹ دے رہے ہیں کسی کو کچھ نہیں دے رہے یہ اولاد کے ساتھ ناانصافی ہے، اس طرح نہیں کرنا چاہئے ،اولاد میں برابری ضروری ہے، تو والد صاحب کہتے ہیں میرا مال ہے جو چاہوں کروں کوئی کچھ نہیں بول سکتاہے جس بچے کو چاہوں جتنا دوں۔ کیا والد صاحب کی یہ بات درست ہے؟

سوال نمبر 4:-اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ہی بچوں میں وراثت تقسیم کرنا چاہیں تو اس کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟اور چونکہ زندگی میں دے رہے ہیں تو کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ جس بچے کو جتنا چاہے دے دے کسی کو کم کسی کو زیادہ؟کیا اسطرح کرنے سے اولاد مں نفرت اور فتنہ پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے؟


سوال نمبر 5:۔-ایک سوال یہ بھی ہے جیسا کہ بچوں نے اپنی ماں کی ملکیت کو والد صاحب کو منتقل کیا جس سے والدہ کے مال کا وراثت تقسیم نہیں ہوا کیونکہ سب نے یہ کہا کہ والدہ کا جتنا مال ہے (کپڑے پیسے سونا وغیرہ وغیرہ)والد صاحب کو دیتے ہیں،اصل میں یہ مشورہ ایک بیٹے نے دیا تھا تاکہ آپس میں سب ایک ہوکر رہیں اور جنکی شادیاں باقی ہے ان کی بھی شادی ہوجائے ،تو جس نے یہ مشورہ دیا کیا وہ گناہ گار ہوگا ؟کیوں کہ اس کے اس مشورے کی وجہ سے ماں کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی۔

سوال نمبر 6:۔والدہ کی وراثت میں سے کسی بھی چیز کی تقسیم نہیں ہوئی ،اور پھر والدہ کی جتنی چیزیں تھیں وہ جس کا دل چاہا اس نے لے لئے جیسے کپڑے اور دوسری چیزیں کیا اسطرح لے لینا درست ہے؟
جواب دیکر ممنون و مشکور فرمائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائزتصرف کرسکتا ہے ، اس کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتااور نہ ہی اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہوتا ہے،لہذا ”انور صاحب “ کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد،پلاٹ وغیرہ اپنے بچے اور بچیوں میں تقسیم کرنا شرعاًکوئی لازم اور ضروری نہیں ، البتہ اگروہ اپنی مرضی سے اپنا مال و جائیداد اپنے بچے اور بچیوں میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے لیکن یہ تقسیم ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ شمار ہوگا،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کیلئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد ( بیٹوں ، بیٹیوں ) کے درمیان برابر تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنادے،تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوسکے،تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے ، تو اس کا بھی اسے اختیار ہے ، مگر بلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے ، کہ یہ گناہ کی بات ہے ۔

مندرجہ بالا تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں :
1: سائل کے والد کا مذکورمملوکہ پلاٹ کو صرف دو بیٹیوں کو دینا اور بقیہ اولادکو بلاوجہِ شرعی کے محروم کرنا شرعاً جائزنہیں، ایسا کرنے والے پر احادیثِ مبارکہ میں حضورﷺ کی جانب سے ناراضگی کا اظہار نقل کیا گیا ہے چنانچہ ایک روایت میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ اپنا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے ایک عطیہ (تحفہ/ہدیہ) دیا تھا،تو عمرة بنت رواحۃ (میری والدہ) نے کہا،میں اس پر راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں،چنانچہ میرے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے عمرة بنت رواحۃ کے بیٹے (نعمان) کو ایک عطیہ دیا ہے،اور اس کی والدہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں،اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے؟انہوں (بشیر) نے کہا، نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو“،راوی کہتے ہیں،پھر وہ واپس لوٹے اور انہوں نے اپنا دیا ہوا عطیہ واپس لےلیا،لہذا سائل کے والد کو چاہیئے کہ وہ ہبہ کرنے میں تمام اولاد کے درمیان برابری کا اہتمام کرے ، اور بلا کسی عذرِ شرعی اور مجبوری کے مذکور بیٹے کو محروم نہ کرے۔
2: سائل کی والدہ کی وفات کے بعدمرحومہ کا مذکور تین منزلہ گھر تمام ورثاء کی اجازت سے والد کو ہبہ کرنے اور اس کو اس کا مالک بنانے کےباوجودوہ اس کا مالک نہیں بنا ہے بلکہ یہ بدستور مرحومہ کا ترکہ شمار ہوگا، اس لئے اس کو بیچنے کی صورت میں سائل کے والد مسمی ”انور“ کا اس میں اپنی مرضی سے تصرف کرنا اورتقسیم سے قبل اپنی نواسی کے شادی وغیرہ کیلئے اخراجات الگ کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ مکان مرحومہ کے شرعی ورثاء (شوہر اور اس کے انتقال کے وقت موجود اولاد) کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا۔
3۔4: سائل کے والد کو اگرچہ اپنے مال و جائیداد میں ہر قسم جائز تصرف کا اختیار حاصل ہے، اور ان کا یہ کہنا کہ ”میرا مال ہے جو چاہوں کروں“ یہ بھی درست ہےتاہم بعض اولادکو بلا وجہِ شرعی محروم کرنا نامناسب اور اولاد کے درمیان باہمی عداوت اور نفرت پھیلنے کا شبہ ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہیئے۔
5: سائل کی والدہ کے انتقال کے وقت چونکہ تمام ورثاء عاقل اور بالغ تھے اور انہوں نے مرحومہ کا وراثتی مال باہمی رضامندی سے ایک وارث یعنی مرحومہ کے شوہر کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تھا لہذا اس فیصلہ کا مشورہ دینے والامحض مشورہ کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوگا۔
6: تقسیمِ ترکہ سے قبل کسی وارث کا دوسرے ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر ترکہ کے کسی چیز میں تصرف کرنا شرعاً جائز و درست نہیں ، جس پر احادیثِ مبارکہ میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں،لہذا اگر کسی وارث نے مرحومہ کے ترکہ میں دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر اپنے حصہ سے بڑھ کر تصرفات کیے ہوں تو ایسی صورت میں وہ دیگر ورثاء کے حصوں کے بقدر ضامن ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول:أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: (أعطيت سائر ولدك مثل هذا). قال: لا، قال: (فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم). قال: فرجع فرد عطيته إلخ(کتاب الھبۃ، باب الإشھاد فی الھبۃ، ج: 2، ص: 1222، ط: البشری)۔
وفی شعب الأیمان: عن علي بن زيد عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم إلا بطيب نفس منه» إلخ(قبض الید عن الأمول المحرمۃ إلخ، ج: 4، ص: 387، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر المختار: متی وقف حال صحتہ وقال علی الفریضۃ الشرعیۃ قسم علی ذکورھم و إناثھم بالسویۃ ھو المختار المنقول عن الأخیار کما حققہ مفتی دمشق یحی ابن المنقار فی الرسالۃ المرضیۃ علی الفریضۃ الشرعیۃ إلخ۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ کما حققہ مفتی دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذکرہ فی الرسالۃ المذکورۃ أنہ ورد فی الحدیث أنہ ﷺ قال: (( سووا بین أولادکم فی العطیۃ و لو کنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء علی الرجال )) رواہ سعید فی سننہ و فی صحیح مسلم من حدیث النعمان بن بشیر (( اتقوا اللہ و اعدلوا فی أولاکم )) فالعدل من حقوق الأولاد فی العطایا (إلی قولہ) و فی الخانیۃ و لو وھب شیئا لأولادہ فی الصحۃ، و أراد تفضیل البعض علی البعض روی عن أبی حنیفۃ لا بأس بہ إذا کان التفضیل لزیادۃ فضل فی الدین و إن کانوا سواء یکرہ إلخ( کتاب الوقف، مطلب مھم فی قول الواقف، ج: 4، ص: 444، ط: ایچ ایم سعید )۔
وفی تکملۃ رد المحتار: الإرث جبری لایسقط بالإسقاط إلخ(کتاب الدعوی،ج: 7، ص: 505، ط: سعید )۔
وفی الدر المختار: (و) شرائط صحتھا (فی الموھوب أن یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول) کما سیتضح إلخ( کتاب الھبۃ: ج: 5، ص: 688، ط: سعید)۔
وفی الدر أیضا: (وکل) من شرکاء الملک (أجنبی) فی الامتناع عن تصرف مضر ( فی مال صاحبہ ) لعدم تضمنھا الوکالۃ (فصح لہ بیع حصتہ ولو من غیر شریکہ بلا اذن الا فی صورۃ الخلط) لمالیھما بفعلھما إلخ (کتاب الشرکۃ، ج: 4، ص: 300، ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ لخالد الأتاسی: ویجوز لاحد اصحاب الحصص التصرف مستقلا فی الملک المشترک باذن الآخر لکن لا یجوز لہ ان یتصرف مضرا بالشریک إلخ(الباب الأول فی بیان شرکۃ الملک، المادۃ: 1075، ج: 4، ص: 12۔13، ط: مکتبہ اسلامیۃ)۔
وفیہ أیضاً: کل واحد من الشرکاء فی شرکۃ الملک اجنبی فی حصۃ الآخر لیس واحد وکیلا عن الآخر، فلایجوز تصرف احدھما فی حصۃ الآخر بدون اذنہ لکن کل واحد من اصحاب الدار المشترکۃ یعتبر صاحب ملک مخصوص علی وجہ الکمال فی السکنی وفی الاحوال التابعۃ لھا کالدخول والخرووج إلخ(الباب الاول فی بیان شرکۃ الملک، رقم المادۃ: 1075، ج: 4، ص: 15، ط: مکتبہ اسلامیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84027کی تصدیق کریں
0     28
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات