السلام علیکم! میری ایک عزیزہ جو مجھ سے عمر میں بڑی ہیں ،اپنے ایک پیر کے لیے مجھے کہہ رہی تھی کہ ان کی بیعت کر لو جو کہ شریعت پہ نہیں چلتے لیکن وہ ان کو اپنا رہنما مانتی ہیں اور کہہ رہی تھی کہ قرآن کی جو آیت ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ہے وہ أولیاء کے بارے میں کہی گئی ہے کہ انسان کو کتاب کہا گیا ہے یعنی جو میرے پیر ہیں ان کو ،اور یہ بھی سنا ہے کہ وہ اپنے پیر کو چلتا پھرتا قران کہتی ہیں ۔یہ جملے کفریہ ہے یا شرکیہ؟ یا صرف بے أدبی ہے؟ میں دل میں تو تنگ ہو رہی تھی ان باتوں سے لیکن وہ مجھ سے بڑی ہیں اس لیے بحث سے بچنے کے لیے بس ان کی ہاں میں ہاں ملاتی گئی، اور بعد میں سوچا کہ کیا ان کفریہ اور شرکیہ باتوں میں ہاں ملا کر میں بھی کافر ہو گئی؟ اور اب توبہ کا طریقہ کیا ہے؟ کیا مجھ پہ ان کی اصلاح فرض ہے اور میں نے نہیں کی، بحث سے بچنے کے لیے، اور اب اگر میں توبہ کرتی ہوں تو ان کے سامنے کرنا ضروری ہے؟ اور ان کی اصلاح کرنا فرض ہے مجھ پہ اب ؟ان سے تو پتہ نہیں کب ملاقات ہو ،میرے لیے کیا اب ضروری ہے کہ میں ان کے کسی بچے کے فون پہ کال کر کے دوبارہ اس ٹوپک کو چھیڑوں اور کہوں کہ میں آپ کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتی اور آپ کے پیر کو پیر نہیں مانتی، مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے ایسی اسپیشل کال کرنا ان کا ذاتی نمبر نہیں ہے کیا توبہ کے لیے لازم ہے ان کی اصلاح بھی کرنا ؟ویسے وہ سارے خاندان کو کہتی ہیں کہ ان کی بیعت کر لو، چھوٹے بڑے لوگوں کو ،اور کافی سالوں سے مرید ہے ان کی اور لگتا نہیں کہ وہ کسی کی اصلاح مانیں گی میں تو ہوں بھی ان سے چھوٹی ،پلیز فتوی دے میں بہت پریشان ہوں.
سائلہ نے اپنی مذکورہ عزیزہ کے بارے میں جو کچھ لکھا یہ تمام باتیں جہالت اور گمراہی پر مبنی ہیں خاص طور پر کلام پاک میں "ذٰلك الكتاب"سےاپنے پیر کو مراد لینا توتحریف قرآن کی بناء پر موجب کفر ہے، سائلہ نے جب ان کی باتوں کی تصدیق نہیں کی محض بحث مباحثہ کے شر سے بچنے کے لیے خاموش رہی ہے تو اس سے وہ گنہگار نہیں ہوئی اس لئے اسےپریشان ہونے کی ضرورت نہیں البتہ حکمت و بصیرت کے ساتھ اگر ممکن ہو سکے تو اسے خود سمجھانے یا کسی صاحب علم کے واسطے سے عزیزہ کو راہ راست پر لانے اور سمجھانے کی کوشش کرے اور نہ خود اور اپنے دیگر متعلقین کو مذکور عزیزہ کی گمراہی سے خبردار کر کے بچانے کی کوشش کرے۔
کما فی جامع الترمذي :عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار"، ھذاحديث حسن.(ج:٢،ابواب تفسير القرأن،ص:٩٨٤،مط: مكتبةالبشرى).
وفي ردالمحتار:وظاهركلامه بجحدالضروري فقط،مع أن الشرط عند ثبوته على وجه القطع وإن لم يكن ضروريا بل قد يكون إستخفافا من قول أوفعل كمامر
(ج:٤ص:٢٢٣،مط:ایچ ایم سعید کراچی)
وفي الفتاوى البزازية: ومنها أن من تكلم بكلمة الكفر وضحك منه آخر كفر الضاحك إلا أن يكون ضروريا بأن يكون الكلام مضحكا،وجحودالكفر توبة (ج: ٦، ص: ٣٢١، مط: ماجدية).
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1