کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد فالج کی وجہ سے سخت بیمار ہے ,ہمارے والد کا ایک مکان ہے جس کی قیمت تقریباً 25 لاکھ روپے ہے ، ہم پانچ بہنیں، چار بھائی اور ایک والدہ ہیں ، ہماری فیملیز بڑی ہوگئی ہیں، اس لئے ہم اس مکان کو فروخت کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ دینا چاہتے ہیں، براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
(نوٹ) والد صاحب تقریباً 5 سال سے فالج کی وجہ سے ہوش میں نہیں ہے، البتہ مکان کی اتھارٹی بڑے بھائی کے نام ہے، اس اتھارٹی اور اختیار کی بنیاد پر بھائی والدہ صاحب کی موجودگی میں ان سے تصرف کر سکتا ہے کہ نہیں؟
محض نام ہونے کی وجہ سے والد کا مکان اس کی حیات میں تقسیم کرنا تو جائز نہیں ،تا ہم والد صاحب کو جب افاقہ ہو تو اُن کی اجازت سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في الفتاوى الهندية: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا هكذا في المحيط اھ (4/ 377)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: الشرط السابع وهو قبض الموهوب: وهو أهم الشروط، وهو شرط لزوم وتمام الهبة اھ (5/ 3995)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0