کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے ایک گھر قسطوں پر خریدا، اس گھر کی قسطیں چار بھائیوں نے ادا کیں ، ان چار بھائیوں کے علاوہ ہمارے دوسرے چار بھائیوں نے کوئی قسط ادا نہیں کی ، کیونکہ وہ اس وقت کوئی کام نہیں کرتے تھے ، مکان خریدنے کے بعد ہم نے اس کو والدہ کے نام کر دیا اور باقاعدہ باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیا ، چونکہ قسط ہم چار بھائیوں نے ادا کی تھی اس لئے والدہ نے زبانی طور پر تمام بھائیوں کو کہا کہ مکان ان چار کا ہے اور بقیہ چار بھائی رضامندی سے اپنے اپنے حصہ سے دستبردار ہو گئے اور انہوں نے ، Affidevit کے اوپر لکھ کر دیا اور اس پر دستخط کیے ،البتہ ان چار بھائیوں کے نام پر کرنے کی جو قانونی کاروائی ہونی تھی وہ پوری نہیں ہوئی، البتہ جتنی کاروائی ہوئی گواہوں کے سامنے کی ، اب بقیہ چار بھائی اس گھر میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں شرعاً ان کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟اب کچھ بھائی اس گھر میں رہنا نہیں چاہتے ہیں کیونکہ یہ گھران کے لئے چھوٹا پڑتا ہے اور رہنے میں دشواری ہوتی ہے اور ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ اپنا گھر اپنے پیسوں سے خرید سکے، اس سلسلہ میں یہ پوچھنا ہے کہ اگر کوئی بھائی مکان بیچنے پر رضامند نہ ہوں اور وہ زبردستی گھر نہیں بیچنے دیتے تو شرعاً وہ جائز کر رہے ہیں یا نا جائز ؟کیونکہ دیگر بھائی بیچنا چاہ رہے ہیں مگر دو بھائی بیچنے نہیں دیتے ہیں۔ اور کیا شرعاً سب بھائیوں کی گھر بیچنے پر رضامندی ضروری ہے؟ اگر کوئی بھائی اپنا حصہ لینا چاہے تو باقی بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اس کا حصہ دے دیں؟ اور اور اگر نہ دے سکے تو مکان کو بیچ دیں؟ شرعاً اس گھر میں کتنے بھائیوں کا حصہ بنتا ہے اور کتنا حصہ بنتا ہے؟
نوٹ ، یہ گھر پہلے ایک منزلہ تھا پھر دو منزلہ بنایا گیا اور اس بعد والی تعمیر میں اکثر پیسہ سید عثمان کا لگا ہے۔
بھائیوں کا مشترکہ طور پر مذکور مکان کی خریداری کے بعد اپنی والدہ کو دینا بلاشبہ درست واقع ہوا ہے ، اور یہ والدہ کے ساتھ تبرّع و احسان ہے جس پر انہیں اجر و ثواب بھی ملے گا، مگر اس کے بعد والدہ مرحومہ نے جب ہر بیٹے کو اس کا حصہ جدا کر کے اس پر ہر ایک کو مالکانہ قبضہ نہیں دیا تو اس طرح محض نام کر دینے یا اقرار کر لینے سے وہ مکان مذکورہ چار بیٹوں کی ملکیت نہیں ہوا، بلکہ حسبِ سابق والدہ کی ملکیت میں رہ کر اب اُن کے ترکہ میں شمار ہوگا ، اور سب ورثاء اس میں حقدار ہوں گے اِلاّ یہ کہ سید عثمان نے جو مزید خرچ کیا ہے اگر اس خرچ کرنے اور تعمیر سے پہلے اس نے یہ کہہ کر اخراجات کیے ہوں کہ یہ اخراجات مکان یا دیگر بہن بھائیوں پر قرض ہیں، جو بعد میں وصول کیے جائیں گے تب تو وہ اپنی بعد کی خرچ کا الگ سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے ورنہ اس کی طرف سے بھی یہ تبرّع شمار ہوگا۔
اسی طرح بلا وجہ جو بھائی مذکور مکان کے فروخت کرنے اور دیگر ورثاء کو ان کا حصہ بہم پہنچانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں وہ بلا شبہ غلطی پر ہیں، انہیں اپنے مذکور نا جائز طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے اور یہ کہ اس مکان کو بیچ کر مرحومہ کے تمام ورثاء کو ان کا حصہ سپرد کریں پھر اگر دوسرے چاروں بیٹے اگر اپنی مرضی و خوشی سے اپنے حصہ پر قبضہ کے بعد ان چار بھائیوں کو واپس لوٹا دیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، اس پر انہیں مجبور کرنا درست نہیں اس سے احتراز چاہیئے ۔
کما في الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني اھ (2/ 889)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه اھ (2/ 926) ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0