کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ شرع عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک شخص ہے اس کی بیوی بھی حیات ہے اور پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے بھی ہیں، جس میں ایک عبد اللہ اور دوسرا عبد الرحمن ہے،زید کی ملکیت میں ایک مکان ہے جو کہ اس کے ایک بیٹے عبداللہ کے زیر استعمال ہے اور وہ والد کا شدید نا فرمان ہے تو والد نے اس کو اپنے مکان چھوڑنے کا کہا تو وہ مکان میں آدھی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے زید جو کہ مقروض بھی ہے تو آیا شریعت کی رو سے وہ آدھی رقم یعنی قیمت مکان میں حصہ دار بن سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کے بقیہ بہن بھائی بھی موجود ہیں اور والدین بھی زندہ ہیں۔ تو یہ واضح کیا جائے کہ زید پہلے قرض اتارے یا تقسیم کریں ، تقسیم کی صورت میں عبد اللہ کو اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی موجودگی میں کتنا حصہ ملیگا؟ اس کا آدھی رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نا جائز؟ جواب دے کر عند الله ماجور ہوں۔
صحت والی زندگی میں مرض ولوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے ہر شخص اپنی جائیداد کا تنہا ما ہوتا ہے ، کسی دوسرے کا اس میں اس سے جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کرنا یا اُسے تقسیم پر مجبور کرنا ہر گز جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور بیٹے کا اپنے والد کے مکان میں حصہ داری یا تقسیم کا مطالبہ قطعاً جائز نہیں اُسے چاہیئے کہ اپنے اس نا جائز دعویٰ اور مطالبے سے اجتناب کرے اور اگر وہ باز نہ آئے تو ایسی صورت میں مذکور بیٹے کی نافرمانی کی بناء پر زیدا سے اپنا مکان خالی کرنے پر مجبور بھی کر سکتا ہے اور بوجہ ضدی ہونے اور والدین کی نافرمانی کے عدالتی کاروائی کا بھی مجاز ہے۔
لہذا زید کے مذکور بیٹے مسمی عبداللہ پر لازم ہے کہ والدین کی نافرمانی کے ذریعہ دنیا و آخرت کی پریشانی و ندامت اور رسوائی سے بچنے کی بھر پور کوشش کرے۔ اور اب تک اُن کی نافرمانی کرنے پر صدق دل سے توبہ و استغفار کرے اور والدین سے بھی معافی مانگے، اور آئندہ کے لیے ان کی نافرمانی کرنے سے مکمل احتراز بھی کرے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اگر زید اپنی مرضی اور خوشی سے اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے ایک محتاط اندازہ کے موافق کچھ مال و جائیداد رکھ لے اور اپنے اوپر واجب قرض وغیرہ بھی ادا کر دے، اس کے بعد بقیہ تمام مال و جائیداد میں اپنی اولاد میں سے جس کسی کو جتنا دینا ہے وہ اسے دے کر اس پر اُسے باضابطہ مالک و قابض بھی بنا دے محض کا غذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ۔ اور پھر اس دینے میں اولاد میں سے کسی کی تنگدستی ، محتاجگی ، دینداری یا خدمت گذاری و غیره کی بناء پر دوسروں سے کچھ زیادہ ی دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، مگر بلا وجہ کسی کو بالکل محروم کرنا، اور کسی ایک کو سب کچھ دیدینے سے احتراز لازم ہے ۔
و في الخانية: لا بأس بتفضيل الأولاد على البعض في المحبة لان المحجبة عمل القلب وذالك غير مقدور (إلی قوله) وروى عن أبى حنيفة انه لا بأس ان كان التفضيل لزيادة فضل له في الدین فإن کانا سواء یکره وروى المعلى عن ایی یو سف انه لا بأس به الا لما يقصد به الاضرار وان قصد به الاضرار سوى بينهما يعطى للابنة مثل ما يعطى للا بن .... وعليه الفتوى اھ (۳/ ۲۷۹)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0