محترم جناب مفتی صاحب! جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی ،التماس ہے کہ میرے چھ بچے ہیں ، 5 بیٹیاں، ایک بیٹے اور 4 بیٹیوں کی شادی ہو گئی ہے اور ایک بیٹے کی ۔ ایک بیٹی غیر شادی شدہ ، کیونکہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے ۔ بیٹا شادی شدہ ہے 4 بچوں کا باپ ہے، میرے گھر میں رہتا ہے لیکن اس کا کھانا پینا الگ ہے، جناب عالی میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرے گھر کا کرایہ وغیرہ کون وصول کرے گا؟ کیونکہ اس گھر میں میں اور میری بیوی ، معذور بیٹی، میرا بیٹا اور ان کے بیوی بچے رہتے ہیں۔ اس وقت میری بیوی دوسری ہے یہ چھ بچے میری پہلی بیوی سے ہیں اور اس دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے۔
میرے بعد اس بیوی کا کرائے میں کیا حصہ ہو گا؟ اور گیس بجلی کا بل ادا کرنے میں میرا بیٹا کتنا دے گا،؟ میرا اور کرایہ میں اس بیوی کتنا حصہ ہوگا؟ اور فروخت ہونے کی صورت میں اس کا کتنا حصہ ہو گا؟ اور میری معذور بیٹی کا کتنا حصہ ہوگا؟ میری بچی معذور بچی گھر کا پتہ بھی نہیں بتا سکتی، اور اگر اس حالت میں کوئی شخص اس سے شادی کرنے میں راضی ہو جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہئیے ؟ مکان فروخت ہونے پہلے یا میرے بعد میری بیوی کب تک رہ سکتی ہے؟
اس کے علاوہ میرے پاس نقد رقم ہے، لاکھ یا اس سے زیادہ ، اپنی معذور بیٹی کے نام کر دوں یا اس کے بھائی کے نام کردوں اور یہ ہدایت کر دوں میرے بعد رقم میری معذور بیٹی کی کفالت میں خرچ کی جائے؟ میں وصیت لکھنا چاہتا ہوں برائے مہربانی شرعی طور پر وصیت لکھنے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے بتا دیں آپ کی مہربانی ہوگی۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ،اب اگر کوئی اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنے متعلقین میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا یہ بھی جائز ہے۔ اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ کہلاتا ہے، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ کچھ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی تمام اولاد چاہے وہ پہلی بیوی سے ہو یا دوسری سے اور اپنی بیوی کے در میان برابر حصوں میں تقسیم کرے، جبکہ مطلقہ بیوی کا شرعا اس حال میں کوئی حق نہیں،البتہ اسے بھی کچھ دینا چاہے تو یہ شرعا بھی ممنوع نہیں، مگر تقسیم کے بعد ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہے، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
پھر چونکہ زندگی موت کا بھروسہ نہیں کہ کون پہلے جائیگا اور کون بعد میں اس لئے مرنے سے پہلے کسی شخص کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ وہ مر گیا ہے قطعاً درست نہیں، البتہ اگر اُس اپنی زندگی میں ہی دینے کی چاہت ہو تو وہ یہ بھی کر سکتا ہے اور اس کا طریقہ کار وہی ہے جو اوپر درج ہوا اسی کے موافق اپنے ہر وارث کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا جائے ، مذکور معذور لڑکی کی اسی معذوری کی حالت میں کوئی اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے اور لڑکی بھی اس قابل ہو تو بلا شبہ جائز ہے مگر اس سلسلہ میں لڑکی کے بننے والے سسرال اور شوہر سے لڑکی کے احوال اور اس کی معذوری کی پوری نوعیت رکھنا ضروری ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اس طرح ورثاء اگر باہمی مرضی و خوشی سے مکان فروخت نہ کرنا چاہیں تو سب کو اپنے اپنے حصہ کی بقدر اس سے مستفید ہونے اور کرایہ وصول کرنے کی اجازت ہے ۔ اس سے روکنا جائز نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» (4/ 444)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى اھ (5/ 696)۔
و فى الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض (إلی قوله) لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار كذا في الظهيرية اھ (4/ 391)۔
وكما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإ ن شاغلا لا، (5/ 690)۔
و في الدر المختار: (تصح) (إجارة حانوت) أي دكان ودار بلا بيان ما يعمل فيها) لصرفه للمتعارف (و) بلا بيان (من يسكنها) (6/ 27)۔
كما في الفتاوى الهندية: ولو وكل رجلا أن يزوجه امرأة فزوجه امرأة عمياء أو شلاء أو رتقاء أو مجنونة أو صغيرة تجامع أو لا تجامع حرة أو أمة ليست بكفء له اھ (1/ 295)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: لقول النبي: «المسلم أخو المسلم، لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعاً، وفيه عيب، إلا بينه له» اھ (4/ 3071)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0