کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرحوم ....مورخہ 2020۔06۔10 کو رضائے الہی سےانتقال کرگئے ہیں او ر ان کے ورثاء میں ایک بیوہ(۔۔۔۔۔)بیٹا(۔۔۔۔) بیٹا(۔۔۔۔ی) بیٹا(۔۔۔۔۔) بیٹی (۔۔۔) بیٹی (۔۔۔) موجود ہیں اور ترکہ میں ایک تعمیر شدہ مکان اور ایک فلیٹ چھوڑا ہے۔شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ ترکہ میں سے کس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ اصول ِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیرمنقولہ مالُ و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجبُ الادا قرض ہویا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہواور بیوہ نے معاف بھی نہ کیا ہوتو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کےکل چونسٹھ(64) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو آٹھ(8) حصے،مرحوم کے تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ(14) حصے، جبکہ مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کوسات(7)حصےدیے جائیں۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0