السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے آج سے چار سال قبل اپنے بیٹے کی شادی اپنی سالی کی لڑکی سے کی تھی ، چار سال بعد لڑکی کا انتقال ہوا ، اب لڑکی کے والدین نے جو جہیز لڑکی کو دیا تھا اب اس کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں ، جناب سے عرض یہ ہےکہ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟ جبکہ لڑکی کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ حق مہر کا بھی لڑکی کے والدین کوئی حق رکھتے ہیں کہ نہیں ؟ دین اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟
نوٹ : لڑکی کے ورثاء میں شوہر اور والدین موجودہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہو کو شادی کے موقع پراہلِ خانہ کی طرف سے بطورِ جہیز جو کچھ ملا تھا اسی طرح نکاح کے وقت حق مہر کے طور پر جو رقم یا سونا وغیرہ مقرر کیا گیا تھا وہ شرعاً مرحومہ کی ملکیت تھا ، جو کہ اب مرحومہ کی وفات کےبعد اس کا ترکہ شمار ہوگا ، اب اگر سائل کے بیٹے نے اپنی مرحومہ بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو سائل کے بیٹے کے ذمہ طے شدہ حق مہر مرحومہ کے ترکہ میں جمع کرنا لازم ہوگا جو اس کے شرعی ورثاء ( بشمول مرحومہ کے والدین ) میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا جن کی تفصیل ذیل میں آرہی ہیں ۔ لہذا مرحومہ کے والدین اپنی بیٹی کے ترکہ میں سے اپنے حصصِ شرعیہ کے بقدر مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں ، اور سائل کے لیے ان کے حصہ دینے میں رکاوٹ بننا جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ مرحومہ ( سائل کی بہو) کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ مال و جائیداد، سونا چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان بمع جہیز اور حق مہر کے اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں ، چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطور تبرع ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی ( 1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھ ( 6 ) حصے بنائیں جن میں سے تین( 3) حصے مرحومہ کے شوہر کو، اور دو (2 ) حصے مرحومہ کے والد کو ، اور ایک ( 1 ) حصہ مرحومہ کی والدہ کو دیاجائے۔
کما فی رد المحتار: كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها إلخ (باب النفقۃ، مطلب فیما لو زفت إلیہ بلا جھاز، ج 3، ص 585، ط دار الفکر بیروت )ـ
و فی الدر المختار : ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) إلخ
و فی رد المحتار( تحت قوله ويتأكد) أي الواجب من العشرة لو الأكثر وأفاد أن المهر وجب بنفس العقد لكن مع احتمال سقوطه بردتها أو تقبيلها ابنه أو تنصفه بطلاقها قبل الدخول، وإنما يتأكد لزوم تمامه بالوطء ونحوه ظهر أن ما في الدرر من أن قوله عند وطء متعلق بالوجوب غير مسلم كما أفاده في الشرنبلالية: قال في البدائع: وإذا تأكد المهر بما ذكر لا يسقط بعد ذلك، وإن كانت الفرقة من قبلها لأن البدل بعد تأكده لا يحتمل السقوط إلا بالإبراء كالثمن إذا تأكد بقبض المبيع. اهـ. (قوله صحت) احتراز عن الخلوة الفاسدة كما سيأتي بيانها (قوله على الزوج) متعلق بقوله وطء أو خلوة على التنازع لا بقوله صحت حتى يرد أن شروط الصحة ليست من جانبه فقط فافهم اھ ( باب المھر، ج 3، ص 106، ط دار الفکر )-
و فی فتح القدیر: قال (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. وقالا: لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول ومهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط نصيبه من ذلك. وأما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت اھ ( باب المھر ج 3، ص 378، ط دارالفکر بیروت )-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1