میرے بڑے بھائی کی بیوہ نے دوسرا نکاح کر لیا ہے، تو کیا میرے بھائی کی جائیداد میں ان (بیوہ) کا حصہ ہوگا؟
واضح ہوکہ اگر بیوہ عورت عدتِ وفات گزارنےکے بعد دوسری جگہ نکاح کرلے تو سابق شوہر کے ترکہ سے اس کا حصہ وراثت ختم نہیں ہوتا ،بلکہ بدستور برقرار رہتاہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی مذکور بھابھی دوسری جگہ نکاح کر لینے سے مرحوم شوہر کی میراث سے شرعاً محروم نہیں ہو گی، بلکہ وہ مرحوم شوہر کے کل ترکہ میں سےاولاد کی موجودگی کی صورت میں آٹھویں حصے اور اگر اولاد موجود نہ ہو تو چوتھائی حصے کی حقدار ہوگی ،البتہ تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کرنا ہو تو ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیں تو انشاء اللہ اس کا جواب دیدیا جائیگا۔
قال اللہ تعالیٰ: ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن (سورۃ النساء آیت نمبر 12،)۔
کما فی الھندیۃ: ویستحق الارث باحدی حصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ والولاء الخ (کتاب لفرائض، ج: 6، ص: 447، ط: ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: وللزوجۃ الربع عند عدمھما والثمن مع أحدھما الخ (الباب الثانی فی ذوی الفروض، ج: 6، ص: 450، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (ویستحق الإرث) (إلی قولہ) (برحم ونکاح) صحیح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء) الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ بأحد ثلاثۃ) یعنی أن کل واحد منھا علۃ للاستحقاق بمعنی أنہ لا یلزم اجتماع الثلاثۃ أو بعضھا فلا ینافی حصول الاستحقاق باثنین منھا کزوجۃ ھی عم أو معتقہ فیرث منھا الزوج النصف بالزوجیۃ والباقی بالتعصیب أو الولاء فافھم (قولہ ونکاح صحیح) ولو بلا وطئ ولا إجماعا در منتقی الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 762، ط: ایچ ایم سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1