کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے ، جن کے ورثاء میں بوقتِ انتقال ہم تین بیٹیاں اور ایک بیٹا حیات تھے ،معلوم یہ کرنا ہے کہ والدِ مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شرعی طریقے سے کیسے تقسیم ہوگا۔ رہنمائی فرما کر ممنون ومشکور فرمائیں۔
نوٹ: والدہ کا انتقال بھی ہوچکا ہے۔
سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل پانچ (5) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم بیٹے کو دو (2) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو ایک ایک (1) حصہ دیا جائے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0