پانچ سال پہلے میرے شوہر کی وفات ہو گئی، ان کی وفات کے وقت میرے سسر صاحب زندہ تھے، ان کے تمام تر ترکہ میں سے ان کے والد صاحب کو چھٹا حصہ قرآن کی رو سے دیا گیا اور ابھی کچھ رہتا ہے، جو ان کی وفات کی وجہ سے ان کے باقی بچوں میں تقسیم ہوگا، میرے شوہر کی وفات کے وقت ان کے استعمال میں ایک گاڑی تھی، جو کہ ان کو آفس کی طرف سے دی گئی تھی، اور اس کی کچھ قسطیں وہ ادا کر چکے تھے اور کچھ رہتی تھیں، جو قسطیں وہ ادا کر چکے تھے، ان میں سے ایک لاکھ سے کچھ اوپر ان کے والد صاحب نے بھی ان کو تحفۃً دی تھی، جو انہوں نے قسطوں میں دے دی، ان کی وفات کے وقت وہ گاڑی ان کے نام نہیں تھی، جو قسطیں رہتی تھیں، وہ ان کے آفس والوں نے کہا تھا کہ وہ مرحوم کی زوجہ کو تحفے میں دینا چاہتے ہیں اور گاڑی بھی ان کی زوجہ کے نام کریں گے، اب آج پانچ سال بعد وہ گاڑی بینک سے بیوہ کے نام منتقل ہو گئی ہے، کیا اس گاڑی میں والد صاحب کا چھٹا حصہ نکلے گا؟ جو اب ان کی اولاد میں تقسیم کیا جائے گا۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کو والد نے قسطوں کی ادائیگی کے لئے مذکور رقم اگر واقعۃً بطورِ ہبہ دی ہو تو وہ رقم مرحوم کی ملکیت بن چکی تھی، لہذا اس رقم کی بقدر گاڑی کی ملکیت میں اس کے تمام ورثاء شریک ہیں جو ان کے درمیان ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی، جبکہ گاڑی کی اقساط کی باقی ماندہ رقم اگر مرحوم کے آفس والوں نے بطورِ تبرع ادا کر کے اس کی ملکیت بیوہ کو دی ہو تو اس قدر رقم کی ملکیت خالص بیوہ کا حق ہے، جس میں دیگر ورثاء شریک نہ ہوں گے۔
کما فی سنن ابن ماجہ : و عن انس قال : قال رسول اللہ ﷺ : من فر من میراث وارثه قطع اللہ میراثه من الجنۃ یوم القیامۃ (باب الحیف فی الوصیۃ ، ص: 549 ، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
و فی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0