السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !میں آپ کی خدمت میں ایک شرعی مسئلہ پیش کرنا چاہتی ہوں،میرے شوہر کا انتقال 3 اپریل 2025 کو ہوا، ان کے زیادہ تر بینک اکاؤنٹس ان کی بہن ....کے ساتھ مشترکہ تھے، اور کچھ صرف ان کے ذاتی نام پر تھے، اب ان کی ہمشیرہ اور بھائی ان کے بینک بیلنس، جائیداد اور انشورنس کلیمز میں حصہ مانگ رہے ہیں،میری اپنے شوہر سے پانچ اولادیں ہیں، براہِ کرم شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ،اور حق دار کون ہوں گے؟جزاکم اللہ خیراً
نوٹ:مرحوم کے ورثاء میں ایک لڑکی اور چار لڑکے تھے،جس میں سے ایک لڑکے کا انتقال ہوا ہے،اور وہ غیر شادی شدہ تھا،انتقال کے وقت عمر 16 سال تھی،لڑکی کی عمر 17 سال ،ایک لڑکے کی عمر 12 سال،دوسرے کی 10 سال اور تیسرے کی8 سال ہے۔
سائلہ کے شوہر اور ان کی بہن کے جو مشترک ( جوائنٹ) اکاونٹ تھے،ان اکاؤنٹ میں موجود ساری رقم اگر سائلہ کے شوہر مرحوم کی تھی،اس میں مرحوم کی بہن کی کوئی رقم شامل نہیں تھی،تو ایسی صورت میں جوائنٹ اکاؤنٹ میں موجود ساری رقم شرعاً سائلہ کے شوہر کی ملکیت تھی،جو کہ اب مرحوم کی وفات کے بعد ان کا ترکہ شمار ہوگا،جو کہ دیگر ترکہ کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص ِشرعیہ تقسیم ہوگا اور چونکہ مرحوم کی نرینہ اولاد موجود ہے،اس لئے شرعاً مرحوم کے بہن بھائی ترکہ میں حصہ دار نہ ہونگے،البتہ اگر ان اکاونٹ میں مرحوم کی بہن نے بھی اپنی ذاتی رقم رکھوائی ہو،تو وہ اسی کی ملیکت شمار ہو گی،اس میں مرحوم کے ورثاء کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے شوہر (مرحوم)کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد سونا ، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اور اگر کسی اور نے تبرعاً یہ مصارف ادا کیے ہو، تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ( 8) حصے بنائے جائیں،جن میں سے بیوہ کو ایک (1)،ہر لڑکے کو دو (2) اور لڑکی کو ایک ( 1) حصہ دیا جائے۔
کما فی الدر المختار: ثم شرع فی الحجب فقال ( و لا یحرم ستۃ ) من الورثۃ ( بحال) البتۃ ( الأب و الأم و الإبن و البنت ) ای الأبوان و الولدان ( و الزوجان ) و فریق یرثون بحال، و یحجبون حجب الحرمان اخرٰی و ھم غیر ھٰؤلاء الستۃ سواء کانوا عصبات أو ذوی فروض و ھم مبنی علی اصلین احدھما ( أنہ یحجب الأقرب ممن سِواھم الأبعد ) لما مر أنہ یقدم الأقرب فالأقرب اتحدا فی السبب أم لا ( و ) الثانی ( أن من أولی بشخص لا یرث معہ ) کإبن الإبن لا یرث مع الإبن الخ ( فصل فی العصبات، ج 6، ص 779، طِ: ایچ ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ: الباب الرابع فی الحجب: و ھو نوعان حجب حرمان و حجب نقصان فحجب النقصان ھو الحجب من سھم الی سھم ( الی قولہ) و من عدا ھٰؤلاء فالأقرب یحجب الأبعد کالإبن یحجب اولاد الإبن و الأخ لابوین یحجب لاخوۃ لاب و من یدلی بشخص لا یرث معہ الا اولاد الام الخ ( الباب الرابع فی الحجب، ج 6، ص 452،ط: احیاء التراث العربی )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0