السلام علیکم مفتی صاحب !
بعد سلام عرض ہے کہ میرے چچا حاجی عبد الله جان (مرحوم) جو کہ فوت ہو چکے ہیں، ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے، ان کی صرف دو بیویاں حیات ہیں ، ایک بھائی اور چار بہنیں حیات ہیں ، حاجی عبد اللہ جان مرحوم کے دو بھائی تھے بڑے بھائی ان کی وفات سے پہلے فوت ہو چکے ہیں، اور ان کی جائیداد کی تقسیم 2000 میں ہوچکی ہے، میرے چچا جس دن یعنی جولائی 2019 میں جب وفات پا گئے ،تو میرے والد نے گاؤں کے مولوی سے پوچھا کہ کہیں میرے بھائی نے آپ کو وصیت تو نہیں کی ، تو انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی و صیت نہیں کی ،میرے چچا (مرحوم) کی عدت جب پورا ہوا تو اچانک گاؤں کے مولوی عبد المنان نے کہا کہ میرے پاس وصیت نامہ ہے، جس میں نہ میرے چچا (مرحوم) کے دستخط ہیں ،اور نہ گواہان کے دستخط ہیں ، اور صرف اس کے ساتھ میرے چچا (مرحوم) کا شناختی کارڈ لگا ہوا ہے، جو کہ ان کی فوتگی کے دوسرے دن ان کی زوجہ سے لیا گیا، اور اُس وصیت نامہ میں میرے تایا کے بیٹے کے نام تمام جائیداد دینے کا لکھا گیا ہے، دیکھنے میں بھی یہ وصیت نامہ نیا لگتا ہے ،اور ان کے انتقال کرجانے کے بعد لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے، اُس میں گاؤں کے بڑوں کا نام لکھا ہوا ہے کہ وہ ثالث بنیں گے اور مولوی عبد المنان وصیت سنائے گا ،اور یہ کہ یہ وصیت نامہ نہ عدالت میں اور نہ شریعت میں چیلنج ہو گا، لہذا آپ شرعی طور پر راہ نمائی فرمائیں کہ اس وصیت نامے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور میرے چچا (مرحوم) کے جائیداد کے اصلی شرعی وارث کون ہے؟جزاک الله !
سوال کے ساتھ منسلکہ تحریر نامہ پر چونکہ مرحوم ’’ مسمی حاجی عبداللہ جان‘‘ کے دستخط یا نشان انگشت موجود نہیں، اور نہ ہی اس پر گواہاں کے دستخط موجود ہیں، سوائے مولوی عبد المنان کے ، مگر اس کے متعلق بھی سائل کا کہنا ہے کہ مرحوم چچا کی وفات کے بعد مذکور مولوی صاحب موصوف سے اس حوالہ سے بات کی گئی تو اس وقت انہوں نے مکمل لا علمی کا اظہار کیا تھا، اس لئے بھی سائل کو مولوی عبد المنان کی بات پر اطمینان نہیں ہے، لہذا منسلکہ تحریر نامہ کے متعلق مقامی علماء کرام اور علاقائی معززین کے ذریعے تحقیق کرائی جائے، اگر منسلکہ وصیت نامہ اور اس میں ذکر کردہ مضمون با قاعدہ گواہان کے ذریعے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچے تو شرعاً یہ وصیت نامہ معتبر نہ ہو گا، بلکہ مرحوم کا تمام تر کہ اس کے شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا، تاہم اگر منسلکہ تحریر نامہ درست ہو اور اس کو با قاعدہ گواہان کے ذریعے ثابت کیا جائے، تب بھی یہ کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک معتبر ہو گا، لیکن اس میں چونکہ ورثاء کے لئے بھی وصیت کی گئی ہے ، اس لئے ورثاء کے حق میں تو یہ وصیت معتبر ہی نہ ہوگی، اِلا ّیہ کہ باقی ورثاء بھی اس پر راضی ہوں، البتہ جو لوگ مرحوم کے شرعی ورثاء نہ ہوں تو یہ ایک تہائی حصہ ان سب کے در میان تقسیم کیا جائیگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم حاجی عبد اللہ جان “ کاتر کہ اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کر دیا جائیگا، کہ مرحوم حاجی عبد اللہ جان نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ بھی ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ سوال میں مرحوم کی جس وصیت کا ذکر ہے، وہ درست ہو اور باقاعدہ گواہوں کے ذریعے ثابت ہو جائے تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل آٹھ (8) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم حاجی عبد اللہ جان کی ہر بیوہ کو ایک ایک حصہ بھائی کو دو حصے ، جبکہ ہر بہن کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔
کما في سنن أبي داؤد ۔ حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا ابن عياش، عن شرحبيل بن مسلم، سمعت أبا أمامة، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» (3/ 114)۔
و في الدر المختار :(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته اهـ (6/ 655)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وإلا بإجازة ورثته) الاستثناء متعلق بالمسألتين اهـ (۶/۶۵۶ کتاب الوصايا)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1