السلام علیکم ! محترم جناب ! مجھے فتوی لینا تھا، ہمارے علم میں اضافہ کریں، تاکہ شریعت کے لحاظ سے صحیح فیصلہ کر سکیں، میرے والد محترم نے والدہ کی وفات پر والدہ کا کچھ زیور مجھے دیا اور کہا اسے آپ رکھیں ، جس کے دو گواہ بھی موجود ہیں، اب اگر کوئی بہن یا بھائی اس میں سے حصہ مانگتا ہے تو وہ شریعت کے لحاظ سے اس کا حقدار ہوگا ؟ کیا والد کا اپنی زندگی میں دیا ہوا حصہ (زیور) بھی ان کی وفات کے بعد برابر تقسیم ہوگا ؟ جزاکم اللہ!
سائلہ کی والدہ کی ملکیت میں بوقتِ انتقال موجود تمام ساز و سامان بشمول زیورات (خواہ حق مہر کے ہوں یا والدین اور سسرال والوں کی طرف سے بطورِ گفٹ دیے گئے ہوں) مرحومہ کا ترکہ شمار ہوں گے، اور انہیں مرحومہ کے اس وقت موجود تمام ورثاء میں ان کے حصۂ شرعی کے مطابق تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہے، چنانچہ سائلہ کے والد کا مذکور زیورات تنہا سائلہ کے حوالے کر کے بقیہ ورثاء کو اس سے محروم رکھنا جائز نہیں تھا، لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ مذکور زیورات مرحومہ کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کردے۔ جبکہ والد اگر اپنی زندگی میں کسی کو اپنی ملکیت میں سے مالکانہ حقوق و قبضہ کے ساتھ کچھ دے تو اس صورت میں والد کی وفات کے بعد وہ چیز تقسیم نہیں ہوگی، بلکہ جس کو بطورِ ملکیت دیا ہو، وہ اسی کی ملکیت شمار ہوگی۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0