کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عبد اللہ اور ابراہیم نے مل کر بیچنے کی غرض سے ایک پلاٹ خریدا، جس کی کل قیمت چو دہ لاکھ پچاس ہزار (1450000 ) روپے تھی، جو ہمیں دس (10) مہینوں میں ادا کرنی تھی، ہم نولاکھ پچاس ہزار (950000) روپے ادا کر چکے ہیں ، اب وقت پر ادانہ ہونے کی وجہ سے ہم دونوں نے مل کر ایک تیسرے شخص ( عبد الخالق) سے پانچ لاکھ (500000) روپے بطورِ قرض لیے ، لیکن ہم سے عبد الخالق نے کہا کہ اگر تم نے دو (2) مہینوں میں پیسے ادا کر دیے تو ٹھیک، ورنہ میں ابتداء سے پلاٹ کے منافع میں آپ کے ساتھ شریک ہو جاؤں گا، اب پلاٹ کی قیمت انیس لاکھ (1900000) روپے ہو چکی ہے، لیکن ہم دونوں (عبد اللہ اور ابراہیم) نے عبد الخالق کو کہا کہ جب ہم نے پلاٹ خریدا ، تو اس کی قیمت چودہ لاکھ پچاس ہزار (1450000 ) روپے تھی ، اب انیس لاکھ (1900000) روپے ہے، تو آپ ابتداء سے نہیں، بلکہ انیس لاکھ (1900000) روپے کے بعد جتنی قیمت بڑھے گی، اس میں شریک ہوں گے، کیا عبد الخالق کا یہ مطالبہ شریعت کی رو سے جائز ہے ؟ اور ہم عبد الخالق کے اس مطالبہ کا انکار کرتے ہیں، تو کیا ہمیں اسے منع کرنے کا حق ہے ؟ وضاحت فرمادیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعتہً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو ، اس طور پر کہ مسمی عبد الخالق نے سائل اور اس کے دوسرے پارٹنر کو قرض دینے کے دو (2) ماہ بعد واپسی نہ کرنے کی صورت میں یہ شرط لگائی ہو کہ اگر تم نے میری رقم واپس نہیں کی، تو میں ابتداء سے اس پلاٹ کے منافع میں شریک ہو جاؤں گا,شرعاً درست نہیں، اور مسمی عبد الخالق مذکور پلاٹ کے منافع میں شریک بھی نہیں ہوا، اسے فقط اپنی دی ہوئی رقم پانچ لاکھ (500000) روپے تک واپس لینے کا حق حاصل ہے، اس سے زیادہ کا مطالبہ قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔
كما بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض اھ (7/ 395)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0