کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بھتیجی جس نے اپنے شوہر کے گھر میں ستائیس سال کا عرصہ گزارا ہے، ان ستائیس سالوں میں اس نے اپنے شوہر کی خوب خدمت کی ہے ، آخر کے دو سال اس نے بیماری میں گزارے ہیں، ان کا شوہر بحرین میں فوج کی نوکری کرتا تھا ،اور ہر سال پاکستان آتا تھا، اس عرصہ دراز میں میری بھتیجی کو اپنے شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، میری بھتیجی نے اپنے دیور کے بچوں کی خوب خدمت کی، اب عرصہ چھ ماہ قبل میری بھتیجی کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے ، میری بھتیجی نے اپنی عدت کے ایام اپنے شوہر کے گھر میں گزارے ہیں، عدت کے ایام ختم ہوتے ہی میری بھتیجی کو رات دو بجے اس کے دیور نے ہمارے گھر یعنی ان کی والدہ کے گھر لا کر چھوڑ دیا ،اور کہا کہ جب میرے بھائی کو ایک سال مکمل ہو گا، جب ہم دیکھیں گے ، یہ لوگ میری بھتیجی کا حق کھانا چاہتے ہیں، میری بھتیجی کا کیاحق بنا ہے، اس کے شوہر کے مال میں جو کہ بحرین فوج سے آتا ہے، اور آرہا ہے اور اس کمائی سے جو مکان بنایا ہے، اور دیور کو کاروبار کے لئے رقم دی ہے ،اور دیور کے تین بیٹوں کو اپنا بیٹا بنا کر بحرین لے کر گیا تھا، ان ساری سہولتوں کو اور سارے پیسوں کو دیور صاحب ہڑپنا چاہتا ہے ، اس ساری صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے میری بھتیجی کا کیا حق بنتا ہے ؟ اس کی تفصیل قرآن و سنت کی روشنی میں معلوم کرنا چاہتا ہوں۔
نوٹ : میری بھتیجی کے شوہر مسمی غلام حسین کے ورثاء میں بیوہ ، والدہ ، ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں اور اولاد کوئی نہیں۔
سائل کی بھتیجی کے شوہر مسمی غلام حسین کے پاس بوقت انتقال جو کچھ بھی تھا، وہ مرحوم کا ترکہ ہے، جو کہ مرحوم کی بیوہ سمیت تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہو گا ، البتہ مرحوم کی وفات کے بعد ادارہ اپنی طرف سے جو کچھ مرحوم کے ورثاء کو دینا چاہتا ہے یہ ادارہ کی طرف سے تبرع و احسان ہے، اس کے لئے وہ مرحوم کے ورثاء میں جس کو نامزد کرے ، وہی اس کا حقدار ہو گا ، جبکہ مرحوم نے اپنے بھائی کو جو رقم دی تھی ، اگر وہ بطور قرض دی تھی تو اتنی رقم ، اور اگر بطور شراکت دی تھی تو اصل رقم سمیت طے شدہ منافع مرحوم کے بھائی کے ذمہ مرحوم کے ورثاء کو واپس کرنالازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات ، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو یا مرحوم نے بیوہ کا حق مہر ادانہ کیا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (۳/۱) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ساٹھ (60) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے پندرہ (15) حصے بیوہ کو ، دس (10) حصے ماں کو ، چودہ (14) حصے بھائی کو اور سات (7) حصے ہر بہن کو دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2