کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی ( محمد الیاس مرحوم ) تقریباً عرصہ پانچ مہینہ قبل انتقال کر گئے، ورثاء میں دو بیٹے (محمد ایان، محمد زنین) اور ایک بیوہ ( رحیلہ ) اور ایک بھائی ( محمد عباس ) زندہ ہیں، والدین میت کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے ہیں، میت کے ترکہ میں ایک پلاٹ ساڑھے آٹھ مرلے کا ہے ، کچھ زرعی زمین ، اور کچھ جہیز کا وہ سامان جو اس نے اپنی پہلی بیوی سے قیمتاً خرید لیا، اور دوسری بیوی کو ہبہ (GIFT) کر کے دید یا، مزید سوال اس بارے میں ہے کہ جہیز کا مذکور سامان بیوہ کاہی سمجھا جائے گا یا اسے ترکہ بنا کر تمام ورثاء پر حسبِ حصص تقسیم کیا جائے گا؟ جبکہ ہمارا خاندانی رواج یہ ہے کہ شوہر یا اس کی بہن وغیرہ بھابھی کو کوئی چیز شادی کے موقع پر دیدے ، تو وہ بھابھی کی ہی ملکیت سمجھی جاتی ہے ، اور کبھی کسی وقت بھی مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے، ان نکات کی روشنی میں جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں۔
نوٹ: محمد زنین جو کہ بھائی کی اس بیوی سے ہے جو خلع لیکر الگ ہو چکی ہے ، اور دوسری شادی بھی کر لی ہے، یہ میت کے اس ترکہ میں حصہ دار ہو گا کہ نہیں؟
مرحوم محمد الیاس نے اپنی پہلی بیوی سے جہیز کا سامان خرید کر دوسری بیوی کو ہبہ (گفٹ) کر کے دیا تھا، اور اس پر اس کو باضابطہ مالک و قابض بھی بنادیا تھا، تو اس سے یہ ہبہ تام ہو چکا تھا، اور اس سارے سامان کی مالک مرحوم کی دوسری بیوی بن چکی ہے ، اس لئے اب اس سامان کو بطورِ میراث مرحوم کے ورثاء میں تقسیم کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ مرحوم کے ترکہ میں جس طرح دوسری بیوی کی اولاد حقدار ہے ، اسی طرح پہلی بیوی کا بیٹا بھی بحیثیت بیٹا ہونے کے حقدار ہے ، جیسا کہ ذیل کے تفصیلی نقشے میں ظاہر کیا جارہا ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم بھائی کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا مرحوم نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو اور اس نے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض کی طرح واجب الادا ہے اس کو بھی ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ اس کے کل سولہ (۱۶) حصے بنائے جائیں جن میں سے دو (۲) حصےمرحوم کی بیوہ کو ، جبکہ باقی چودہ حصوں میں سے ہر بیٹے کو سات (۷) حصے دے دیں لیکن مرحوم کا بھائی (محمد عباس) ترکہ کا حقدار نہ ہوگا۔
كما في الهداية شرح البداية : والقبض لا بد منه لثبوت الملك اھ (3/ 224)۔
وفيه ايضاً: قال وإذا كانت العين في يد الموهوب له ملكها بالهبة وإن لم يجدد فيها قبضا لأن العين في قبضه والقبض هو الشرط اھ (3/ 226)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0