احکام وراثت

والد کا بغیر کسی وجہ کے دو بیٹوں اور بیٹی کو اپنی جائیداد سے عاق کرنا

فتوی نمبر :
84997
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کا بغیر کسی وجہ کے دو بیٹوں اور بیٹی کو اپنی جائیداد سے عاق کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے ایک دینی مدرسے سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا : " زندگی میں جس کو جتنا دے دیا ، وہ اس کا، اور وفات کے بعد جو بچ گیا وہ وراثت میں آئے گا"
اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ، انہوں نے ایک پلاٹ اور گھر دو (2) بھائیوں اور دو (2) بہنوں کو دیا اور ان کے نام رجسٹری کروا کر قبضہ بھی دے دیا تھا 1994 ء میں ، دو (2) بھائی اور ایک بہن کو اس میں سے کچھ نہ دیا گیا، اور نہ کوئی وصیت کی، مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمارے نام جو کچھ کر دیا، وہ ہمارے تصرف میں آگیا، لیکن والد ہ ، دو بھائی ، اور بہن محروم ہو گئے، والدہ کی وفات 1996ء میں یعنی قبضہ کے دو سال بعد ہوئی۔
آپ یہ فرمائیں کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہے، کیا یہ تقسیم جائز تھی ؟ اگر نہیں تو کیا اب دو بھائی، بہن جو کہ اب وفات پاچکے ہیں ، ان کا حصہ پہنچانا لازمی ہے؟ چونکہ اب یہ جائیداد علیحدہ علیحدہ یعنی جن کے نام ہے ، فروخت ہو رہی ہے ، جس کے بعد جو رقم وغیرہ ہو گی وہ تو سب میں تقسیم ہو گی، جو بھائی، بہن جائیداد میں حصہ دار نہ بنے تھے ان کی موجودہ کیفیت یہ ہے:
1: بھائی ( احمد عمران) مرحوم کے ورثاء میں ، بیوہ ایک لڑکا ، اور ایک لڑکی موجود ہیں۔
2: بھائی ( غفران) مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ایک لڑکا اور تین لڑکیاں موجود ہیں۔
3: بہن ( فروہ) مرحومہ کے ورثاء میں شوہر ، تین لڑکے اور لڑکی موجود ہیں۔
ہم لوگ چار بھائی اور تین بہنیں تھیں ، والد صاحب نے زندگی میں اس طرح تقسیم کی کہ :
1 : خالی پلاٹ میرے (احمد عرفان ) کے نام حد بندی کے ساتھ ٹرانسفر کر دیا ، اور رجسٹری بھی کروا کر میرے قبضہ میں دیا، اور کاغذات بھی حوالے کر دیے۔
2: تعمیر شدہ رقبہ میں سے ایک رقبہ حد بندی کے ساتھ رضوان حامد کے نام کرا کے ،رجسٹری سمیت دستاویزات بھی ان کے حوالے کر دیئے ، اور قبضہ بھی دیا، والد صاحب نے رہائش وہیں برقرار رکھی۔
3: ایک رقبہ حد بندی کے ساتھ صبیحہ حامد کے نام رجسٹری کراکر ، اصل دستاویزات سمیت قبضہ بھی دیا جو شوہر اور بچوں کےرہتی تھی۔
4: ایک رقبہ حد بندی کے ساتھ عمیرہ حامد بہن کے نام رجسٹری کرواکر ، اصل دستاویزت کے ساتھ قبضہ بھی دیا، جہاں وہ شوہر اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔
والدہ کا انتقال، والد ماجد کے بعد ہوا، اس کے بعد بڑے بھائی احمد عمران ، ان کے بعد بہن فروہ حامد ان کے بعد غفران احمد کا انتقال ہوا۔
شرع کی رو سے مشورہ دیں، تا کہ والد صاحب کی غلطی کی تصحیح کی جائے اور عذاب سے بچایا جائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو تو اس کے والد مرحوم کا اپنے دو (2) بیٹوں اور بیٹی کو بلا کسی عذر کے اپنی مذکور جائیداد سے محروم کرنا، جائز نہیں تھا، مرحوم کو چاہیئے تھا کہ زندگی میں وہ جتنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے تھے ، اس میں سب بیٹوں ، بیٹیوں کو برابر حصہ دیتے ، لیکن جب مرحوم نے ایسا نہیں کیا ، بلکہ اپنی زندگی میں غیر تعمیر شدہ پلاٹ ، الگ سے سائل ( مسمی احمد عرفان ) کے نام کر کے اسے مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دیا تھا، اور تعمیر شدہ مکان میں سے ایک متعین حصہ الگ سے بیٹی مسماۃ صبیحہ حامد ، جبکہ دوسرا متعین حصہ بیٹی عمیرہ حامد کے نام ، رجسٹری کروا کر انہیں قبضہ میں دیدیا تھا اور دونوں اپنے اپنے بچوں اور شوہروں کے ساتھ اپنے متعین حصہ میں رہائش پذیر ہوئیں، تو اس طرح نام کروا کر حوالہ کرنے سے سائل کے والد مرحوم کی طرف سے ، شرعاً ہبہ مکمل ہو گیا تھا، جس سے سائل مذکور پلاٹ کا اور مرحوم کی دونوں بیٹیاں اپنے اپنے حصے کی مالک بن گئیں ، اب مرحوم کے انتقال کے بعد یہ ان کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گا، جبکہ تعمیر شدہ مکان میں سے جو حصہ مرحوم نے اپنے بیٹے مسمی رضوان حامد کے نام کر کے کاغذات بھی انہیں حوالہ کر دیے تھے، اگرچہ بیٹے کی اجازت سے مرحوم نے اپنی رہائش وہیں تاحیات برقرار رکھی ہو ، تب بھی مکمل قبضہ کے ساتھ مذکور حصہ کی حوالگی مذکور بیٹے مسمیٰ رضوان حامد کو دینے سے مرحوم کی طرف سے یہ ہبہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔ اور اس مکان کے مالک اب مسمی رضوان حامد ہیں ، اس میں بھی دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، لیکن اس کے علاوہ جو جائیداد بوقتِ انتقال سائل کے والد مرحوم کی ملکیت تھی ، وہ مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گی، البتہ اگر سائل اور اس کے دیگر وہ بہن بھائی جنہوں نے والد صاحب کی زندگی میں حصہ لے لیا تھا، اب اگر وہ والد مرحوم کے ترکہ میں سے ملنے والا حصہ اپنے ان بہن بھائیوں کی اولاد کو دینا چاہیں ، جن کو والد مرحوم نے محروم کر دیا تھا، تو ان کے لئے ایسا کرنے کا اختیار حاصل اور ان کو ایسا ہی کرنا چاہئیے ، تاہم ان پر یہ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار : و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. ( الى قوله) (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84997کی تصدیق کریں
0     461
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات