احکام وراثت

سرکاری ملازم کی بیٹوں کے نام کی ہوئی جائیداد میں وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
85009
| تاریخ :
2025-08-06
معاملات / ترکات / احکام وراثت

سرکاری ملازم کی بیٹوں کے نام کی ہوئی جائیداد میں وراثت کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کی خدمت میں ایک خاندانی مسئلہ پیش کررہی ہوں جو ہمارے والد کی وفات کے بعد وراثت کی تقسیم سے متعلق ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مکمل طور پر قرآن و سنت کی روشنی میں ، شریعت کے مطابق حل ہوتا کہ کسی حق دار کا حق ضائع نہ ہو، اور والد مرحوم کی آخرت کی جواب وہی آسان ہو۔
ہمارے والد محترم کا انتقال سن 2022 میں ہوا، وہ 2017میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ نجی کنٹریکٹر ( ٹھیکیدار) کے طور پر بھی کام کرتے رہے، اپنی زندگی اور رہٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی کمائی سے مختلف جائیداد یں خریدیں ، لیکن یہ جائیداد یں قانونی طور پر اپنے بیٹوں کے نام پر رجسٹر کروائیں، بظاہر انتظامی یا ٹیکس وجوہات کی بنا پر .کیونکہ وہ سرکاری ملازم تھے اور اپنے نام پر رجسٹری ممکن نہ تھی ۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کوئی بھی جائیداد والد صاحب نے اپنے بیٹوں کو تحفہ ( ہبہ ) کے طور پر نہیں دی تھی، وہ تمام جائیداد یں اپنے تصرف اور قبضے میں رکھتے تھے ، ان سے فائدہ اٹھاتے تھے ، ان کا کرایہ خود لیتے یا اپنی نگرانی میں تقسیم کرواتے، اور ان میں رہائش پذیر بھی خود ہوتے تھے، والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ بیٹیوں کو نبیل کے نام والے فلیٹ سے دوں گا، لیکن یہ صرف زبانی بات تھی ، تحریری وصیت یا دستاویز نہیں، اور اس کے گواہ صرف بھائی حضرات ہیں، اس کے باوجود ، بھائی نبیل کے نام والے فلیٹ میں سے خود بھی اپنا حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو کہ والد صاحب کی اسی زبانی وصیت کے خلاف معلوم ہوتا ہے جسے بنیاد بنا کر وہ بہنوں کو باقی جائیدادوں سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔
جائیدادوں کی تفصیل:
نو اشباہ : ایک گھر اور تقریباً 7 دکانیں والد کی کمائی سے خریدی گئیں، رجسٹری بیٹوں ( فرحان ، بلال، نبیل، حمزہ ) کے نام۔
کراچی مکان: پہلے فرحان کے نام کروانا تھا ، بعد میں بلال کے نام کروایاگیا والد خود اس میں آکر رہتے تھے۔
کراچی فلیٹ: نبیل کے نام رجسٹرڈ والد صاحب کے مطابق یہی بیٹیوں کو دینا تھا۔
دو گاڑیاں: فرحان اور بلال کے نام ، لیکن والد کی کمائی سے لی گئیں۔
ورثاء کی فہرست: والدہ ( بیوہ) حیات ہیں 4 بیٹے( فرحان، بلال، نبیل، حمزہ) 2 بیٹیاں ( میں اور میری بہن )۔
موجودہ صورت حال: والد صاحب کے انتقال کے بعد جائیدادوں اور دکانوں کی تقسیم تا حال نہیں ہوئی۔
بھائی ان جائیدادوں سے ماہانہ کرایہ حاصل کرتے رہے ہیں لیکن ہم بہنوں یا والدہ کو آمدن سے کچھ نہیں دیا۔
ہمیں نقدی ، زیورات یا دیگر مالی اثاثوں کا علم نہیں، تمام معلومات بھائیوں کے پاس ہے۔
بھائی فرحان کا موقف ہے کہ ہم صرف وہی کریں گے جو والد صاحب کہتے تھے اور صرف نبیل کے فلیٹ سے بہنوں کو دیں گے۔
بھائی بلال کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں تقسیم شروع کی تھی لیکن اچانک انتقال ہوگیا اور ارادہ مکمل نہ ہوسکی۔
کبھی کبھار بھائی یہ کہتے ہیں کہ کراچی کی جائیدادیں آپس میں بانٹ لیں گے، اور نو اشباہ والا گھر ان کا ہے کیونکہ والد صاحب نے ان کے نام کیا تھا، حالانکہ کراچی کی جائیدادیں بھی والد نے انہی وجوہات کی بناپر بیٹوں کے نام کی تھیں ، جیسے نو اشباہ کی۔
ہمارے شرعی سوالات:
1= کیا وہ تمام جائیدادیں جو والد صاحب کی کمائی سے خریدی گئیں مگر بیٹوں کے نام رجسٹرڈ ہوئیں ، شریعت میں والد صاحب کی ملکیت شمار ہوں گی؟
2= اگر والد نے تقسیم کا عمل شروع کیا لیکن قبضہ و تصرف خود رکھا ، تو کیا وہ جائیدادیں ترکہ شمار ہوں گی؟
3= اگر تمام جائیدادوں پر والد کا انتظامی و مالی کنٹرول تھا ، اور ان کے بیٹوں کو صرف قانونی نام دیا گیا ، تو شرعاً ان جائیدادوں کی حیثیت کیا ہوگی؟
4= اگر والد کی زندگی میں مکمل ہبہ ( گفٹ) نہ ہوا ، تو کیا انتقال کے بعد وہ جائیداد تمام ورثاء کا ترکہ ہوگی؟
5= نو اشباہ ۔ کراچی مکان، فلیٹ،دکانیں اور گاڑیاں کیا سب والد کے ترکہ میں شامل ہوں گی ؟
6= والد ہ اور بیٹیوں کا شرعی حصہ کتنا ہے؟
7= انتقال کے بعد حاصل ہونے والا کرایہ جو صرف بیٹے لیتے رہے ہیں کیا وہ تمام ورثاء میں شرعاً تقسیم ہونا چاہیے؟
8= اگر بھائی وراثت سے انکار کریں اور صرف زبانی باتوں کو جواز بنائیں ، تو شریعت ایسے معاملے میں کیا حکم دیتی ہے؟ کیا عدالت یا دار الافتاء سے رجوع کرنا جائز ہے؟
درخواست: ہم دار الافتاء کے معزز مفتیان کرام سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ ان تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی رشنی میں مکمل شرعی فتوی عطا فرمائیں تاکہ والد محترم کی جائیداد انصاف و عدل کے ساتھ تمام حق داروں میں تقسیم ہو سکے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ انسان کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے کسی کو کچھ دینا ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے، اور ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کررہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ اس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی د یدے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، ورنہ شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا۔
نیز ہر چیز کا قبضہ اسی چیز کے حساب سے ہوتا ہے، مکان کے قبضہ کے تام ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ واہب ( مالک) اپنا سامان اس میں سے نکال دے اور خود بھی کچھ وقت کے لیے اس میں سے نکل جائے، لیکن اگر ہبہ کرنے والا خود اس مکان میں موجود ہو یا اس کا سامان موجود ہو اور وہ صرف مکان کسی کو گفٹ کردے تو یہ گفٹ مکمل نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والد صاحب نے اپنے بیٹوں کو باقاعدہ تقسیم کرکے قبضہ نہیں دیا بلکہ تمام جائیدادیں اپنے تصرف اور قبضے میں رکھتے ہوئے صرف کاغذات میں نام کر دیا تو ایسی صورت میں ان کے حق میں ہبہ مکمل نہیں ہوا ، بلکہ مذکورہ مکان بدستور والد صاحب کی ملکیت میں برقرار ہو کر اس کے سارے جائیداد یں اپنے تمام ورثاء میں( بیوہ، بیٹوں،بیٹیوں) حسب شرعی تقسیم کیا جائےگا۔
تاہم والد صاحب کی جائیداد میں سے حاصل ہونے والاکرایہ کے تمام ورثاء اپنے حصص کے بقدر حق دار تھے ،اس لئے سائلہ کے بھائیوں کا کرایہ کی پوری رقم پر قابض ہو کر بہنوں کو ان کا حصہ نہ دینا شرعاً ظلم اور غصب ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، لہذا بھائیوں پر لازم ہے کہ کرایہ سے حاصل ہونے والا نفع سے بھی بہنوں کو اپنا حق دیں۔
میراث میں جس طرح بیٹوں کا حق و حصہ ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی شرعی حق و حصہ ہوتاہے، ان میں سے کسی کومحروم کرنا شرعا ناجائز اورحرام ہے، لہذا صورت مسئولہ میں بیٹوں کا صرف زبانی باتوں کو جواز بنا کر ترکہ دینے سے انکار کرتے ہوئے والد کی جائیداد پر قابض ہونااور بیٹیوں کو محروم رکھنا حرام ،قرآن کریم کی صریح تاکیدی حکم کی مخالفت اور بندوں کی حق تلفی ،بدترین ظلم اور سخت گناہ ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد سونا ،چاندی ، زیوارات، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل اسی(80)حصے بنائے جائیں ، جن میں سے بیوہ کو دس (10) حصہ ہر بیٹے کو چودہ (14) حصہ اور ہر بیٹی کو سات ( 7) حصے دئے جائیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ( باب الوصایا، ج: 1، ص: 266، ط: قدیمی )۔
و فیہ ایضاً: و عن النعمان بن بشیر أن أباہ أتی بہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال: انی نحلت ھذا غلاماً، فقال: أ کل ولدک نحلت مثلہ؟ قال : لا قال: فأرجعہ، و فی روایۃ قال: فاتقوا للہ واعدلوا بین اولادکم باب العطایا، ج: 1، ص: 261، ط: قدیمی)۔
و فی رد المحتار: لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی الخ ( کتاب الحدود، ج: 4، ص: 61، ط: سعید )۔
و فیہ أیضاً: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية.الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)۔
و فی شرح المجلۃ: الاموال المشترکۃ شرکۃ الملک تقسم حاصلاتھا بین أصحابھا علی قدر حصصھم ( 1/4 )۔
و فی الھندیۃ: و منھا ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 4، ص: 374، ط: ماجدیۃ )۔
و فی البحر الرائق: و فی الموھوب أن یکون مقبوضاً غیر مشاع متمیزاً غیر مشغول علی ما سیأتی تفصیلہ و رکنھا ھو الاجاب و القبول الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 7، ص: 284، ط: رشیدیۃ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85009کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات