السلام علیکم! میں......آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں،جناب عالی گزارش ہے کہ میں نے ایک مسئلہ بیان کرنا ہے،عرض ہے کہ میرے والد صاحب اپنی جائیداد میں سے مجھے وراثت دینا چاہتے تھے مگر میں ان کو منع کرتا تھا کہ مجھے ضرورت نہیں ہے،میں اپنے آبائی مکان میں رہتا تھا،میرے انکار کرنے پر میرے والد صاحب نے میرے ایک دوست مولوی ...... صاحب سے ماجرا بیان کیا، پھر مجھے میرے دوست نے سمجھایا اور میں وراثت لینے کے لیے راضی ہوا ،میرے والد صاحب نے مجھے پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ خرید کر دیا ، اور کہا کہ اب پلاٹ کی رجسٹری خود کروا لو، میں نے بذات خود 45 ہزار روپے کی رقم لگا کر رجسٹری کروائی اور شرط رکھی گئی جب تک میرا مکان میرے رہنے کے قابل نہیں ہو جاتا، تب تک میں اپنے آبائی مکان میں رہوں گا، میں نے اپنے پلاٹ پر کام شروع کروایا ،
مجھ سے کہنے لگے کہ تم اپنا مکان دے دو ہم مکمل تیار کر کے سیل کرتے ہیں اور اپنے کاروبار کا آغاز کرتے ہیں اور تمہاری بھی پارٹنرشپ ہوگی مکان پر مزید 14 لاکھ روپے کا خرچہ ہوا جو کہ میرے بھائیوں نے کیا اور مکان مکمل تیار ہو گیا ،
وہ مکان 48 لاکھ روپے کے عوض سیل کیا گیا ،مکان سیل کرنے کے بعد پھر وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے یہ کاروبار نہیں کرنا، میں نے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو مجھے کہنے لگے کہ تمہارا جتنا بھی خرچہ آیا ہے پلاٹ پر وہ بتاؤ ،میں نے تقریبا ساڑھےگیارہ لاکھ روپے کا خرچہ کیا تھا پلاٹ کی بنیادوں سے لے کر دیواریں کھڑی کرنے تک، انہوں نے مجھے 14 لاکھ روپے دیے بقایا رقم ان کے پاس ہے جس کے عوض مکان سیل کیا گیا تھا، اور میرے والد صاحب 2020 میں انتقال کر گئے، میں اس وقت سے آج تک تقریباً سات سال سے اپنی بقیہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہوں اور وہ نہیں دے رہے ہیں، اب برادری کے بڑے بزرگ لوگوں نے مل کر مجھے اس بات پر قائل کیا کہ میں دوبارہ سے وراثت لے لوں میرے والد صاحب کے نام دو مکان ہیں، ایک تین مرلہ اور ایک چھ مرلہ کا مکان ہے ،میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی بڑے بھائی.... کو دیے گئے لیکن رجسٹری ابھی والد صاحب کے نام پر ہے، سب بہن بھائیوں اور برادری کے بزرگوں کو علم ہے کہ چھوٹا مکان والد صاحب نے بڑے بھائی کو دے دیا اس کے باوجود مجھے سب کہتے ہیں کہ میں دونوں مکانوں میں سے دوبارہ وراثت لے لوں جبکہ میں کہتا ہوں کہ یہ گناہ ہے مجھے میرے والد صاحب اپنی زندگی میں ہی پانچ مرلہ کا پلاٹ وراثت میں دے چکے تھے جو کہ چھوٹے بھائیوں نے مکان بنا کر سیل کر دیا اور مجھے 14 لاکھ کی رقم دے کر بقایا رقم اپنے پاس رکھ لی۔ میرا مسئلہ ہے کہ آپ میری رہنمائی کریں کہ آیا میں دوبارہ وراثت لے سکتا ہوں؟ میرا مکان سیل کرتے وقت میرے گواہ اور خریدار جناب .....صاحب ہیں پلاٹ خریدتے وقت میرے گواہ مولوی ..... صاحب ہیں۔
نوٹ: سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل صرف یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اگر اس کے والد نے اپنے بیٹے (سائل) کو اپنی زندگی میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مکان دیا ہو اور والد کا انتقال ہوگیا ،تو دیگر ورثاء بہن بھائی کا اس میں حصہ ہوگا یا نہیں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرفا ت کر سکتا ہے،اس پر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کو مطالبہ کاحق حاصل ہے،البتہ اگر والد بخوشی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ ہبہ کہلائیگا اور ہبہ میں بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے،جبکہ بلاوجہ اولاد میں سے کسی کو کم یامحروم کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر کوئی والد اپنی زندگی میں بیٹوں کو جائیداد باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے تو شرعاً وہ اس کے مالک بن جائیں گے ،اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،تاہم بلاوجہ ایسا کرنے کی وجہ سےوہ گناہ گار ہوگا اورفقط کاغذات میں کوئی چیز کسی کے نام کردینے سےبھی شرعاً وہ اس کا مالک نہیں بنتا، جب تک کہ اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی نہ دے دیا جائے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے اگر واقعۃً مذکور پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ اپنے بیٹے کوباضابطہ مالکانہ قبضہ اگر نہ دیا ہو (جیسا کہ سوال میں بھی بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے کہ بڑے بھائی ...... کو مکان دیے گئے لیکن رجسٹری ابھی والد صاحب کے نام پر ہے) تو ایسی صورت میں فقط نام کردینے سے بیٹا شرعاً مذکور پلاٹ کا مالک نہیں بنا تھا،بلکہ وہ پلاٹ سائل کے والد کی حیات تک بدستور اس کی ملکیت رہا ، اور اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں دونوں مکان ان کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها الخ۔ (ج:5، ص:690، ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى الخ۔ (کتاب الوقف، ج:4، ص:444، ط: سعید)۔