احکام وراثت

کسی وارث کے نام جائید اد رجسٹری کرانے کی صورت میں وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
85261
| تاریخ :
2025-08-13
معاملات / ترکات / احکام وراثت

کسی وارث کے نام جائید اد رجسٹری کرانے کی صورت میں وراثت کا حکم

السلام علیکم! میں......آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں،جناب عالی گزارش ہے کہ میں نے ایک مسئلہ بیان کرنا ہے،عرض ہے کہ میرے والد صاحب اپنی جائیداد میں سے مجھے وراثت دینا چاہتے تھے مگر میں ان کو منع کرتا تھا کہ مجھے ضرورت نہیں ہے،میں اپنے آبائی مکان میں رہتا تھا،میرے انکار کرنے پر میرے والد صاحب نے میرے ایک دوست مولوی ...... صاحب سے ماجرا بیان کیا، پھر مجھے میرے دوست نے سمجھایا اور میں وراثت لینے کے لیے راضی ہوا ،میرے والد صاحب نے مجھے پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ خرید کر دیا ، اور کہا کہ اب پلاٹ کی رجسٹری خود کروا لو، میں نے بذات خود 45 ہزار روپے کی رقم لگا کر رجسٹری کروائی اور شرط رکھی گئی جب تک میرا مکان میرے رہنے کے قابل نہیں ہو جاتا، تب تک میں اپنے آبائی مکان میں رہوں گا، میں نے اپنے پلاٹ پر کام شروع کروایا ،
مجھ سے کہنے لگے کہ تم اپنا مکان دے دو ہم مکمل تیار کر کے سیل کرتے ہیں اور اپنے کاروبار کا آغاز کرتے ہیں اور تمہاری بھی پارٹنرشپ ہوگی مکان پر مزید 14 لاکھ روپے کا خرچہ ہوا جو کہ میرے بھائیوں نے کیا اور مکان مکمل تیار ہو گیا ،
وہ مکان 48 لاکھ روپے کے عوض سیل کیا گیا ،مکان سیل کرنے کے بعد پھر وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے یہ کاروبار نہیں کرنا، میں نے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو مجھے کہنے لگے کہ تمہارا جتنا بھی خرچہ آیا ہے پلاٹ پر وہ بتاؤ ،میں نے تقریبا ساڑھےگیارہ لاکھ روپے کا خرچہ کیا تھا پلاٹ کی بنیادوں سے لے کر دیواریں کھڑی کرنے تک، انہوں نے مجھے 14 لاکھ روپے دیے بقایا رقم ان کے پاس ہے جس کے عوض مکان سیل کیا گیا تھا، اور میرے والد صاحب 2020 میں انتقال کر گئے، میں اس وقت سے آج تک تقریباً سات سال سے اپنی بقیہ رقم کا مطالبہ کر رہا ہوں اور وہ نہیں دے رہے ہیں، اب برادری کے بڑے بزرگ لوگوں نے مل کر مجھے اس بات پر قائل کیا کہ میں دوبارہ سے وراثت لے لوں میرے والد صاحب کے نام دو مکان ہیں، ایک تین مرلہ اور ایک چھ مرلہ کا مکان ہے ،میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی بڑے بھائی.... کو دیے گئے لیکن رجسٹری ابھی والد صاحب کے نام پر ہے، سب بہن بھائیوں اور برادری کے بزرگوں کو علم ہے کہ چھوٹا مکان والد صاحب نے بڑے بھائی کو دے دیا اس کے باوجود مجھے سب کہتے ہیں کہ میں دونوں مکانوں میں سے دوبارہ وراثت لے لوں جبکہ میں کہتا ہوں کہ یہ گناہ ہے مجھے میرے والد صاحب اپنی زندگی میں ہی پانچ مرلہ کا پلاٹ وراثت میں دے چکے تھے جو کہ چھوٹے بھائیوں نے مکان بنا کر سیل کر دیا اور مجھے 14 لاکھ کی رقم دے کر بقایا رقم اپنے پاس رکھ لی۔ میرا مسئلہ ہے کہ آپ میری رہنمائی کریں کہ آیا میں دوبارہ وراثت لے سکتا ہوں؟ میرا مکان سیل کرتے وقت میرے گواہ اور خریدار جناب .....صاحب ہیں پلاٹ خریدتے وقت میرے گواہ مولوی ..... صاحب ہیں۔
نوٹ: سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل صرف یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اگر اس کے والد نے اپنے بیٹے (سائل) کو اپنی زندگی میں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ مکان دیا ہو اور والد کا انتقال ہوگیا ،تو دیگر ورثاء بہن بھائی کا اس میں حصہ ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرفا ت کر سکتا ہے،اس پر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کو مطالبہ کاحق حاصل ہے،البتہ اگر والد بخوشی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ ہبہ کہلائیگا اور ہبہ میں بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے،جبکہ بلاوجہ اولاد میں سے کسی کو کم یامحروم کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر کوئی والد اپنی زندگی میں بیٹوں کو جائیداد باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے تو شرعاً وہ اس کے مالک بن جائیں گے ،اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،تاہم بلاوجہ ایسا کرنے کی وجہ سےوہ گناہ گار ہوگا اورفقط کاغذات میں کوئی چیز کسی کے نام کردینے سےبھی شرعاً وہ اس کا مالک نہیں بنتا، جب تک کہ اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی نہ دے دیا جائے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے اگر واقعۃً مذکور پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ اپنے بیٹے کوباضابطہ مالکانہ قبضہ اگر نہ دیا ہو (جیسا کہ سوال میں بھی بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے کہ بڑے بھائی ...... کو مکان دیے گئے لیکن رجسٹری ابھی والد صاحب کے نام پر ہے) تو ایسی صورت میں فقط نام کردینے سے بیٹا شرعاً مذکور پلاٹ کا مالک نہیں بنا تھا،بلکہ وہ پلاٹ سائل کے والد کی حیات تک بدستور اس کی ملکیت رہا ، اور اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں دونوں مکان ان کا ترکہ شمار ہوکر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها الخ۔ (ج:5، ص:690، ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى الخ۔ (کتاب الوقف، ج:4، ص:444، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85261کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات