السلام علیکم !میرے چچا جو پہلے سُنّی تھے، اُن کی پہلی بیوی اور پانچ بچے ہیں، جو اب بھی سُنّی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، چچا نے اپنی پہلی بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر دوسری شادی کر لی ہے، جس عورت سے اُنہوں نے شادی کی ہے، وہ شیعہ ہے، شادی کے بعد چچا نے اپنا مسلک تبدیل کر کے شیعہ مسلک کو فالو کرنا شروع کر دیا ہے،میرے مرحوم داداابو نے جو جائیداد میرے چاچو کےنام وصیت کی تھی، وہ چاچو کو ملے گی یا انکے بچوں کو اس معاملے میں رہنمائی کریں؟
واضح ہو کہ وصیت شریعت مطہرہ کی رو سے صرف غیر وارث کے لئے معتبر ہوتی ہےاور بیٹا چونکہ وارث ہے،اس لئے بیٹے کے حق میں وصیت درست نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے دادا نے سائل کے چچا کے حق میں جو وصیت کی ہے،وہ وارث کے حق میں ہونے کی وجہ سے شرعاً معتبر نہیں،چنانچہ سائل کے دادا نے بوقتِ وفات اپنے ترکہ میں جو کچھ چھوڑا ہے،وہ اصولِ میراث کے مطابق دادا مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم ہو گا۔
کما فی سنن الترمذی: عن عمرو بن خارجة أن النبي صلى الله عليه و سلم خطبهم وهو على راحلته . وإن راحلته لتقصع بجرتها . وإن لغامها ليسيل بين كتفي قال : ( إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث الحدیث( باب لاوصیۃ لوارث، ج 2، ص 905، ط: قدیمی)۔
و فی الدر المختار: (و ھی ) علی ما فی المجتبٰی اربعۃ اقسام ( واجبۃ بالزکاۃ ) و الکفارۃ ( الی قولہ ) (و الا فمستحبۃ ) و لا تجب للوالدین و الأقربین لأن آیۃ البقرۃ منسوخۃ بآیۃ النساء الخ
و فی الشامیۃ تحت (قولہ و لا تجب الخ ) ( الی قولہ ) أخرج البخاری فی صحیحہ عن عطاء و ابن عباس قال کان المال للولد، فکانت الوصیۃ للوالدین فنسخ اللہ ذلک بأحب، فجعل للذکر مثل حظ الانثیین، و جعل للوالدین لکل واحد منھما السدس، و روی فی السنن مسنداً إلی ابی أمامۃ قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول (إن اللہ أعطی کل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث) أخرجہ الترمذی و ابن ماجۃ الخ (کتاب الوصایہ، ج 6، ص 648، ط: ایچ ایم سعید )۔
و فی الفتاوى الهندية :ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين و لاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة. ( کتاب الوصیۃ، ج 6، ص 90، ط : ماجدیۃ )۔
و فی السراجی :والمانع من الارث الاربعۃ ( الی قولہ ) والقتل الذی یتعلق بہٖ وجوب القصاص اوالکفّارۃ ( الی قولہ) واختلاف من الدینین ای اسلامًا وکفرًا الخ (فصل فی الموانع، ص 5،ط: قدیمی)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0