والدین کی بنائی گئی پراپرٹی بھی وراثت ہوتی ہے یا صرف دادا ، پڑدادا کی پراپرٹی وراثت ہوتی ہے؟ والدین کی بنائی گئی پراپرٹی کا انکی زندگی میں اور انکے وفات کے بعد تقسیم کا کیا حکم ہے؟ بیٹے اور بیٹی کے حصے کے حوالے سے بتائیے گا۔ دادا،پڑدادا سے آنے والی وراثت کی تقسیم کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ ہر شخص کے انتقال کے بعداس کی چھوڑی ہوئی پراپر ٹی مال وجائیداد اس کا ترکہ قرار دیکر اسکے موجود ورثاء کے درمیان ان کے حصص شرعی کےمطابق تقسیم کرنا لازم ہوتاہے اور قریبی ورثاء کی موجودگی میں دور کے ورثاء میراث میں حصہ دار قرار نہیں پاتے،یعنی مرحوم کی اولاد کی موجوگی میں اولاد کی اولاد(پوتےوغیرہ)وراثت سے محروم رہتےہیں ،جبکہ والدین کی بنائی گی پراپرٹی پر زندگی میں انہیں بلا شرکت غیرے مکمل اختیار حاصل ہوتاہے،اولاد میں سے کسی کے لئے بھی ان سے حصہ داری کا دعوٰی کرتےہوئےتقسیم کا مطالبہ کرنا درست نہیں البتہ اگروہ اپنی رضامندی سے اپنی زندگی میں اپنی پراپرٹی اولاد میں تقسیم کرنا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار حاصل ہے البتہ ان کے انتقال کے بعد ان کے مال وجائیداد میں ہر ایک وارث اپنی شرعی حصے کے بقدر مالک ہوتاہےمورث کے انتقال کے بعد اگراس کےورثاء میں بیٹا ،بیٹی ہو تو ان میں مال وجائیداد” للذکر مثل حظ الانثیین“ کے طور پر تقسیم کیا جائےگا(یعنی بیٹے کو دوحصے اور بیٹی کوایک حصہ دیا جائےگا)۔
قال اللہ تعالی: یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین (سورۃ النساء، آیت نمبر 11)۔
کما فی البحر الرائق: و اما بيان الوقت الذى يجرى فيه الارث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الارث یثبت فی آخر جزء من اجزاء حياة المورث و قال مشایخ بلخ الارث یثبت بعد موت المورث الخ (كتاب الفرائض، ج: 8 ، ص: 488 ، ط: الماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: و هل ارث الحی من الحى ام من الميت؟ المعتمد: الثانی شرح وهبانية الخ
وفی رد المحتار: تحت: (قوله و هل ارث الحی من الحى الخ) ای قبيل الموت فی آخر جزء من اجزاء حياته، و الاول قول زفر و مشایخ العراق، و الثانی قول الصاحبين، الخ (كتاب الفرائض، ج: 6 ، ص: 75 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الدر المختار : (و تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) الخ (کتاب الھبۃ، ج : 5 ، ص : 690 ، ط : ایچ-ایم-سعید)۔
وفی الھندیۃ : لا یثبت الملک للموھوب لہ الا بالقبض ھو المختار ھکذا فی الفصول العمادیۃ الخ (کتاب الھبۃ ، ج : 4 ، ص : 378 ، ط : ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0