اگر کوئی خاتون جائیداد کے بٹوارے کے بعد اس کے حصے میں یعنی ماں کے حصے میں شرعی مال آیا، تو اگر اس ماں کو اس کا حصہ مل گیا، اور ملنے کے بعد اس نے اپنی خوشی سے اپنا مال اپنے کسی بیٹے کو دے دیا، اور بعد میں اس کا انتقال ہو جاتا ہے، تو وہ مال جو والدہ نے اپنی خوشی سے کسی بیٹے کو دے دیا تھا ،تو اس پیسے کا کوئی بھی دوسرا وارث مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کرسکتاہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ مرحومہ نے اپنی صحت والی زندگی میں ملنے والا حصہ اپنے بیٹے کے پاس بطور امانت نہ رکھوایا ہو، بلکہ اسے مالکانہ حقوق اور مکمل تصرفات کے اختیار کے ساتھ اس کا مالک بنا دیا ہو، تو یہ ہبہ تام ہوکر شرعا ًوہ مال بیٹے کی ملکیت شمار ہوگی، دیگر ورثاء کا اس میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار: اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك الخ(کتاب الصید، ج 6، ص 463، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: حکم الملک ولایہ التصرف للمالک فی المملوک باختیارہ لیس لاحد ولایۃ الجبر علیہ إلا لضرورۃ ولا لأحد ولایۃ المنع (الی قولہ) للمالک ان یتصرف فی ملکہ ای تصرف شاء الخ(کتاب الدعوی، فصل بیان حکم الملک والحق الثابت الخ، ج 6، ص 263، ط: سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: تنعقد الھبۃ بالایجاب والقبول وتتم بالقبض، صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالایجاب (إلی قولہ) وفی الدرر شرح الغرر قال الامام حمید الدین: رکن الھبۃ الایجاب فی حق الواھب، لأنہ تبرع فیتم من جھۃ المتبرع، أما فی حق الموھوب لہ فلا یتم إلا بالقبول، ثم لا ینفذ ملکہ فیہ إلا بالقبض الخ(الفصل الاول فی بیان المسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ وقبضھا،المادۃ 837، ج3، ص 344، 345، ط: اسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0