کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ،ورثاء میں ایک بیوہ ،اور دو بیٹے موجود ہیں ،دادا ،دادی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے ،معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء کے درمیان شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو اس کی ادائیگی کرنے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل سولہ (16) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو دو (2) حصےاوت مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2