اگر کوئی شخص (الف) دوسرے شخص (ب) کیلئے کسی تیسرے شخص / حکومت (ج) سے 15 لاکھ قرض دلوادے ، اور شخص (ب) اس قرض کو شخص (ج) کو قسطوں میں ادا کرےگا ، تو کیا شخص (الف) کیلئے اس پر کمیشن لینا جائز ہے ؟ واضح رہے کہ الف کے بغیر ب کو قرض نہیں ملتا یعنی الف کی کوشش کی بدولت ہی قرض ملتی ہے۔
شکریہ ۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں حلال اور جائز معاملات میں اپنے خدمات کے بدلے کمیشن کےنام پرکوئی معاوضہ یا اجرت وصول کرنا درست ہے،بشرطیکہ وہ خدمات اس طرح ہوں کہ اس کے لئے عملا بھی بھاک دوڑ کرکے اور محنت کرنی پڑے ورنہ محض سفارش کرنے یا ضامن بننے کی وجہ سے کمیشن لینا جائز نہ ہوگا، لہذا صورت مسئولہ میں شخص (الف ) دوسرے شخص (ب)کو جو قرض دلواتاہے،اگر وہ سودی قرض نہ ہواور (الف) نے عملا اس قرض دلوانے میں اپنا کردار اداکیا ہو اس طوپر کہ اس عمل پر اس کا وقت یا مال صرف ہوا ہو ،تو ایسی صورت میں شخص (الف ) کےلئے قرض دلوانے پر مقررہ یا معروف کمیشن لینا شرعا جائز اور درست ہوگا ورنہ نہیں۔
کما فی صحیح المسلم :عن جابر قال لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدہ و قال ھم سواء (ج:2،ص:27،ط:قدیمی کتب خانہ)
وفی ردالمختار:و في الحاوي:سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار،فقال:أرجوأنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام(ج:6،ص:63،ط:سعید)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0