السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں زمین خریدی اور اُس پر مکان بھی بنایا اور اُس مکان کو ہماری والدہ کے نام کر دیا اور کہا کہ کل اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو والدہ کو کوئی گھر سے نہ نکال سکے اور والدہ جب چاہے بچوں کی مشاورت سے مکان بیچ کر سب کو ان کا حصہ دے دے ، اب جبکہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، تو والدہ صاحبہ مکان بیچ کر بچوں کو وراثت میں حصہ دینا چاہتی ہے، تو شرعی طریقہ کیا ہے؟
کیا بہن بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگا یا بھائیوں کے 2 حصے اور بہنوں کا ایک حصہ اور بیوہ کا آٹھواں حصہ؟ اور اگر بیوہ اپنا حصہ سب میں تقسیم کر دے یا کسی ایک کو دے دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ہم 3 بھائی ، 5 بہنیں اور ایک والدہ (بیوہ) ہے، جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ پراپرٹی اور جائیداد وغیرہ محض کسی کے نام کرنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم نے مذکور مکان اگر اپنی بیوی (سائل کی والدہ) کے فقط نام کیا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضہ میں نہ دیا ہو، تو سائل کی والدہ اس مکان کی مالکہ نہیں بنی، بلکہ مذکور مکان سائل کے والد مرحوم کی ملکیت میں شمار ہو گا جو ان کے انتقال کی صورت میں تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا۔ پھر اگر کوئی وارث اپنی مرضی وخوشی سے میراث میں سے اپنے حصۂ شرعی پر قبضہ کر لینے کے بعد کسی ایک وارث یا تمام کے درمیان اپنا حصہ تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے، تاہم تقسیمِ میراث اور قبضہ سے پہلے اپنے حصہ سے دستبرداری شرعاً معتبر نہیں ہوتی، اس لئے اگر واقعۃً سائل کی والدہ اپنا حصہ اولاد کو دینا چاہتی ہیں تو وہ تقسیمِ میراث کے بعد اپنے حصہ پر قبضہ کر لینے کے بعد کسی ایک یا تمام اولاد کو دینا چاہیں تو دے کر اس پر باقاعدہ ان اولاد کو قبضہ وتصرف کا اختیار دیدیں، کیونکہ یہ دینا ان کی طرف سے ہبہ (گفٹ) ہے، جس کے تام ہونے کے لئے شرعاً قبضہ واختیار اور تصرف شرط ہے، محض کاغذوں میں نام کر دینا کافی نہیں ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد ،سونا و چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو اور بیوہ نے معاف نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل اٹھاسی (88) حصے بنائیں، جن میں سے بیوہ کو گیارہ (11) حصے، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل ان الموهوب ان مشغولا بملك الواهب منع تمامها، و ان شاغلا لا الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
و فی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : متی وقف حال صحتہ و قال علی الفریضۃ الشرعیۃ قسم علی ذکورھم و اناثھم بالسویۃ ھو المختار الخ (کتاب الوقف ، ج: 4 ، ص؛ 444 ، ط: سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0