میرے والد نے میرے سامنے میری والدہ کو طلاق دی، جس کی وجہ سے میں گھر سے چلا گیا، مامی کے گھر، کیونکہ میرے والد طلاق دینے کے بعد بھی میری ماں کو ساتھ رکھ رہے تھے، اور اس کے علاوہ محلے کے کونسلر کے سامنے بھی طلاق ہوئی، لیکن وہ پھر بھی ساتھ رہ رہی تھی، اب ہمارے والد اس دنیا میں نہیں رہے، میری ماں سب کو یہی کہہ رہی ہے کہ : میں اپنے مرحوم شوہر کی بیوہ ہوں، اور اب کچھ دن پہلے وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہےمیری چھوٹی بہن کو لے کر، اب گھر میں، میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ اکیلا رہتا ہوں، میری عمر سترہ سال ہے، مجھے ہمارے تایا پال رہے ہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ: میری والدہ میرے دادا کی جائیداد میں حصہ مانگ رہی ہے، وہ میرے دادا کی وراثت ہے، میرے والد کے نام کچھ بھی نہیں ہے، اب شرعی مسئلہ بتادیا جائے کہ: کیا کیا جائے ہم بہت پریشان ہیں، میرے دادا، دادی کا انتقال تو بہت پہلے ہو گیا تھا، اب میرے تایا ہیں اور میری تین پھوپیاں ہیں اور ہم دو بھائی اور ایک بہن ہے، ہماری ماں ہمیں بہت پریشان کر رہی ہے، دین کا مذاق بنا کے رکھا ہوا ہے، اور جھوٹی اتنی ہے کہ: طلاق کے بعد بھی کہتی ہے کہ طلاق نہیں دی، پوری گلی والے جانتے ہیں کہ طلاق دی تھی، میرے تایا ہم بہن بھائیوں کو حصہ دے رہاہے لیکن میری ماں پیسوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
نوٹ: سائل سے رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ: سائل کے والد مرحوم نے سائل کی والدہ کوتین طلاقیں دی تھیں،اور سائل کے والد نے موت سے ایک سال پہلے طلاق دی تھی، اور اس سے قبل بھی طلاق دیدی تھی لیکن پر صلح کر کے واپس لے آتے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگرواقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ: سائل کے والد مرحوم نے سائل کی والدہ کو اپنی موت سے ایک سال قبل تین طلاقیں دیدی تھیں،توتین طلاق دینے کی وجہ سے وہ سائل کے والدکے نکاح سے نکل کر اس پر حرام ہو چکی تھی، جس کے بعد اسے بغیر حلالۂ شرعیہ کے ساتھ رکھنا شرعاًجائز نہ تھا، جس پر دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، پھر چونکہ سائل کے والد کے انتقال کے وقت اس کی والدہ اپنے شوہر کی زوجیت میں نہیں تھی، اس لئے سائل کی والدہ کا بواسطۂ شوہر اس کے دادا کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں بنتا، اور نہ ہی وہ مطالبہ کر سکتی ہے، اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے اس ناحق مطالبے سے باز آئےاور شوہر پر حرام ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ازدواجی حیثیت سے رہنے پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے،تاکہ مؤاخذہ اخروی سے سبکدوش ہوسکے۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ ای میل کردیں، اس پر غور وفکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
كما في المبسوط للسرخسي قال رضي الله عنه واذا طلق المريض امرأته ثلاثا او واحدة بائنة ثم مات وهي في العدة فلا ميراث لها منه في القياس الى قوله وجه القياس ان سبب الارث انتهاء النكاح بالموت ولم يوجد لارتفاعه بالتطليقات والحكم لا يثبت بدون السبب كما لو كان طلقها قبل الدخول ولان الميراث يستحق بالنسب تارة وبالزوجية اخرى ولو انقطع النسب لا يبقى استحقاق الميراث به سواء كان في صحته او في مرضه فكذلك اذا انقطعت الزوجية الخ (باب طلاق المريض ج 6 ص 155 ط مطبعة السعادة)
وفي الهندية: قال الخجندي الرجل اذا طلق امرأته طلاقا رجعيا في حال صحته او في حال مرضه برضاها او بغير رضاها ثم مات وهي في العدة فانهما يتوارثان بالاجماع وكذا اذا كانت المرأة كتابية او مملوكة وقت الطلاق فاسلمت في العدة او اعتقت في العدة فانها ترث كذا في السراج الوهاج ولو طلقها طلاقا بائنا او ثلاثا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث وهذا اذا طلقها من غير سؤالها فاما اذا طلقها بسؤالها فلا ميراث لها كذا في المحيط الخ (الباب الخامس في طلاق المريض ج 1 ص 362 ط ماجدية)
وفيها ايضا: اذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهداية الخ (فصل فيما تحل به المطلقة ج 1 ص 473 ط سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2