محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں آپ کی خدمت میں ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی کے لئے حاضر ہوا ہوں،میرا بھائی طارق عبداللہ وفات پا چکا ہے، تقریباً 10 سال قبل اُس کی بیوی نے اُسے خود چھوڑ دیا تھا اور عدالت سے خلع لے لیا تھا، اُس وقت اُن کی دو بیٹیاں تھیں، جو چھوٹی تھیں، خلع کے بعد اُس کی بیوی نے دوسری شادی کر لی اور اُس کے بعد نہ وہ اور نہ ہی بچیاں کبھی میرے بھائی سے ملنے آئیں، صرف میرے بھائی کی آخری وقت میں بچیاں ملنے آئی تھیں،اب سوال یہ ہے کہ:1 کیا خلع لینے کے بعد، میرے مرحوم بھائی کی سابقہ بیوی کا اُس کی جائیداد میں کوئی شرعی حصہ بنتا ہے؟2 اور کیا اُن کی بیٹیوں کو وراثت میں حصہ ملے گا، اگرچہ وہ اپنے والد سے تعلق نہیں رکھتی تھیں؟ براہِ کرم اس مسئلے پر قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی فتویٰ جاری فرمائیں ،تاکہ ہم صحیح طریقے سے وراثت کی تقسیم کر سکیں۔اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
سائل نے اپنی بھابھی کا عدالتی خلع کی مکمل تفصیل ذکر نہیں کی کہ کس بنیاد پر اس نے خلع لیا تھا، اگر اس نے شوہر ( سائل کے بھائی ) کی رضامندی سے خلع لیا ہو،اور پھر عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کیا ہو،تو شرعاً بھی یہ خلع درست ہو کر اس کا کسی اور جگہ نکاح کرنا درست منعقد ہوا ہے،لہذا اس صورت میں وہ سائل کے مرحوم بھائی کے ترکہ میں حصہ دار نہ گی،تاہم سائل کے بھائی کی دونوں بیٹیاں اگر چہ والد سے لاتعلق رہیں،تب بھی شرعاً وہ اپنے والدِ مرحوم کے ترکہ میں دیگر ورثاء کی طرح حصہ دار ہو نگی ،لہذا ان کو شرعاً ان کا حق دینا ضروری ہے۔
کما فی احکام القران للجصاص: ((و لا یحل لکم أن تأخذوا مماۤ اٰتیتموھن شیئا إلا أن یخافا الّۤا یقیما حدود اللہ))و لا خلاف بین فقہاء الأمصار فی جوازہ دون السلطان و کتاب اللہ یوجب جوازہ و ھو قولہ تعالیٰ ((فلا جناح علیھما فیھما افتدت بہ)) فاباح الأخذ منھا بتراضیھما من غیر السلطان و قول النبیﷺ لإمرأۃ ثابت بن قیس أتردین علیہ حدیقتہ فقالت نعم فقال للزوج خذھا و فارقھا یدل علی ذالک أیضاً لأنہ لو کان الخلع إلی السلطان شاء الزوجان أو أبیا اذا علم أنھما لایقیمان حدود اللہ لم یسئلھما النبی ﷺ عن ذالک و لا خاطب الزوج بقولہ اخلعھا بل کان یخلعھا منہ و یرد علیہ حدیقتہ و ان ابیا أو واحد منھما کما لو کانت فرقۃ المتلاعنین الی الحاکم لم یقل للملاعن خل سبیلھا بل فرق بینھما کما روی سھل بن سعد أن النبی ﷺ فرق بین المتلاعنین الخ( باب الخلع،ج 1، ص 395، ط: سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان)۔
و فی البسوط للسرخسی : ( قال )و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود و ھو بمنزلۃ الطلاق و للزوج ولایۃ إیقاع الطلاق و لھا ولایۃ إلتزام العوض الخ ( باب الخلع، ج 6، ص 173، ط: ادارۃ القران )۔
و فی التاتارخانیۃ: في الملخص و الايضاح: الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ ( كتاب الطلاق، الفصل السادس العشر في الخلع، ج:3، ص:28، ط: دار الكتب العلمية )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2