کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندہ اپنے گاؤں سے شہر کی طرف کمانے کے لیے آیا، اور ماہانہ اپنے گھر والدین کو خرچہ بھی بھیجتا رہا، خرچے کے علاوہ اپنے لیے تھوڑی تھوڑی رقم الگ جمع کرتا رہا، اس جمع شدہ رقم سے اس نے ایک مکان خریدا،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس مکان میں میرے بھائیوں کا حصہ شامل ہوگا یا نہیں؟ اسی طرح کیا یہ مکان میرے والد کی میراث میں شمار ہوگا یا میری ذاتی ملکیت میں شمار ہوگا؟ براہِ مہربانی مکمل رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا
صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اگر اپنے ذاتی سرمایہ سے کچھ رقم جمع کرکے مذکور مکان خریدا ہو، تو وہ مکان اسی کی ملکیت شمار ہوگا، اور اس کے والد اور دیگر بہن بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا، اور نہ ہی انہیں اس مکان میں حصہ کے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔
کما في ردالمحتار : لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي الخ(باب التعزیر، ج 4، ص 61، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما بیان حکم الملک والحق الثابت فی المحل فنقول وباللہ التوفیق حکم الملک ولایۃ التصرف للمالک فی المملوک باختیارہ لیس لاحد ولایۃ الجبر علیہ الا لضرورۃ ولا لاحد ولایۃ المنع عنہ وان کان یتضرر بہ الا إذا تعلق بہ حق الغیر فیمنع عن التصرف من غیر رضا صاحب الحق وغیر المالک لا یکون لہ التصرف فی ملکہ من غیر إذنہ ورضاہ الا لضرورۃ وکذلک حکم الحق الثابت فی المحل اذا عرف ھذا فنقول للمالک أن یتصرف فی ملکہ أی تصرف شاء سواء کان تصرفا یتعدی ضررہ الی غیرہ أو لا یتعدی الخ(کتاب الدعوی، فصل بیان حکم الملک والحق الثابت الخ، ج 6، ص 264، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0