والد سے پہلے بیٹے کا انتقال ہو جائے ، کیا اس کا وراثت سے حصہ ختم ہوجاتا ہے؟ شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے تو والدین کے ترکہ میں ان کی دیگر اولاد (بیٹوں) کی موجودگی میں مرحوم بیٹے/بیٹی کی اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کی اولادوں کو مرحوم دادا ، دادی ، نانا، نانی کے ترکہ میں حصہ داری کا مطالبہ کا حق ہوتاہے۔
کما فی الشامیۃ: و شروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقتا أو تقدیرا کالحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض ج:6،ص:758،ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم الخ (الباب الرابع فی الحجب، کتابالفرائض، ج:6، ص: 452، ط: ماجدیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0