السلام علیکم
مفتی صاحب ایک شرعی مسئلہ پوچھنا تھا جیسے کہ میں غیر شادی شدہ ہوں کوئی اولاد نہیں اور والدین بھی حیات نہیں صرف بہن بھائی ہیں جو کہ سب شادی شدہ ہیں۔۔مفتی صاحب میرے پاس ایک پراپرٹی ہے جو کہ میں ہبہ کرنا چاہتا ہوں اپنے ایک بھائی کو جو کہ مالی اعتبار اور تھوڑا ذہنی اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں ہے اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔لہذا میں چاہتا ہوں اپنی زندگی میں یہ انہیں ہبہ کر دوں، کیا اس میں کوئی شرعی عذر ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی ورثاء میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے، کہ وہ اس کو اس تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنے بھائیوں میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ) کا کہلائیگا۔ جس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد تمام ورثا (بہن ، بھائی) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنادے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ، تاہم اگر سائل اپنے بھائی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ یا سارا دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے، کہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی المشکاۃ: و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔
و فی الدر: و فی الخانیۃ لا بأس بتفضیل الأولاد فی المحبۃ لأنھا عمل القلب و کذا فی العاطایا إن لم یقصد بہ الإضرار و إن قصدہ فسوّی بینھم یعطی البنت کالإبن عند الثانی و علیہ الفتوی و لو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز و أثم الخ۔ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (کتاب الھبۃ، ج: 5 ص: 690، ط؛سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0