میرے ابو لوگ کل چار بھائی اور ایک بہن ہے، دو بھائی فوت ہوگئے ہیں ،ان میں سے ایک بھائی کی ایک بیٹی ہے، بیٹی اور ان کی بیوی ان کے فوت ہوتے ہی یہاں سے چلی گئی تھی اپنے ابو لوگوں کے پاس ۔ میری دادی اس چاچو کی وفات کے 20 سال بعد فوت ہوئی ہیں، کیا چاچو کی بیٹی وراثت کی حق دار ہے اگر حق دار ہے تو جائیداد میں سے کتنا حصہ ملے گا ؟
واضح ہو کہ جس وارث کا انتقال اپنے مورث کی زندگی میں ہو جائے ، تو مرحوم مورث کے ترکہ میں چھوڑی جانے والی جائیداد میں اس وارث کی اولاد کا مورث کے دیگر بیٹوں کی موجودگی میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم اگر دیگر ورثاء اپنی خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، شرعاً اس کا انہیں اختیار حاصل ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں چاچو کی وفات دادی کی وفات سے 20 سال پہلے ہوئی تھی ، اور مرحومہ دادی کی دیگر اولاد بھی موجود ہے اس لئے چاچو کی بیٹی ( یعنی پوتی ) اپنے والد کے واسطے سے دادی کی وراثت میں حقدار نہیں ہوگی، البتہ اگر اس چچا کا انتقال اپنے والد ( سائل کے دادا ) کے انتقال کے بعد ہوا ہو، تو ایسی صورت میں مرحوم چچا چونکہ اپنی زندگی میں اپنے والد مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار قرار پا چکے تھے اس لئے ان کا حصۂ میراث اس کے انتقال کے بعد اس کے بیوہ ، بیٹی اور دیگر ورثاء میں تقسیم ہوگا، جس کا طریقہ کار ورثاء کی مکمل تفصیل ذکر کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما فی رد المحتار: وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، ط: سعید)۔
و فی ھامش مجمع الانھر: وشروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ او حکماً کمفقود او تقدیراً کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیاً حقیقۃً او تقدیراً الخ ( کتاب الفرائض، ج: 2، ص: 745، ط: دار احیاء التراث العربی )۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0