السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !میں اپنے والد اور چچا کے درمیان کاروباری شراکت داری اور اس سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں، براہ ِکرم شرعی رہنمائی فرمائیں، پس منظر: میرے والد اور چچا کا مشترکہ کاروبار تھا، دونوں کا سرمایہ اور نفع و نقصان مشترکہ تھا، اس دوران میرے بھائی نے مشترکہ پیسوں میں سے کچھ رقم استعمال کر کے اپنے لیے سعودی عرب کا ویزا خریدا اور سعودی عرب جا کر محنت مزدوری کرنے لگا اور اپنی محنت سے آمدنی کمانے لگا، بعد میں میرے بھائی نے میرے لئے ویزا خریدا اور میں بھی سعودی عرب آ کے نوکری کرنے لگا،سوال: بھائی نے جو مشترکہ پیسو ں سے ویزا لیا تھا اور بعد میں انہوں نے میرے لئے ویزا لیا، کیا اس کی وجہ سے میری یا میرے بھائی کی محنت اور مزدوری سے کمائی ہوئی رقم بھی والد اور چچا کی شراکت میں تقسیم کے وقت شامل ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے بھائی نے اپنے والد اور چچا کے مشترکہ کاروبار میں سے ویزہ کے لیے جو رقم لی تھی وہ بطورِ قرض لی تھی یا بطور ِ تبرع اور احسان تھی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جا تا، تاہم اگر سائل کے بھائی نے اپنے والد اور چچا کے مشترکہ کاروبار سے مذکور رقم قرض یا اس رقم کی واپسی کی صراحت کیساتھ نہ لی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے والد اور چچا کا سائل کے بھائی کو مذکور رقم دینا تبرع و احسان شمار ہو گا ،اور سائل پر اس رقم کا واپس کرنا شرعاً لازم نہ ہو گا ، البتہ اگر سائل کے بھائی نے مذکور رقم اپنے والد اور چچا سے بطورِ قرض لی ہو تو ایسی صورت میں جتنی رقم اس نے قرض لی تھی اتنی رقم واپس کرنا لازم ہو گا ،تاہم سائل اور اس کے بھائی کی محنت مزدوری سے حاصل ہونے والی کمائی بہرحال ان کی ذاتی ملکیت شمار ہو گی اسے سائل کے والد اور چچا کے مشترکہ حساب میں شمار نہیں کیا جائے گا ۔
کما فی الدر المختار: (فصل فی القرض) (ھو ) لغۃ ما تعطیہ لتقاضاہ و شرعا ما تعطیہ من مثلی لتقاضاہ و ھو أخصر من قولہ ( عقد مخصوص ) أی بلفظ القرض و نحوہ (یردہ علی دفع مال ) بمنزلۃ الجنس (مثلی) خرج القیمی ( لآخر لیرد مثلہ خرج نحو ودیعۃ و ھبۃ الخ ( فصل فی القرض ج:5،ص:161،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: لیس لہ حق الرجوع بعد التسلیم فی ذی الرحم المحرم الخ (الباب الخامس الرجوع فی الھبۃ ج:4 ، ص: 386 ، ط: ماجدیۃ)۔
و فی العقود الدریۃ: و المتبرع لایرجع بما تبرع بہ علی غیرہ کما لو قضی دین غیرہ بغیر أمرہ۔إلخ( کتاب المداینات، ج: 2، ص: 248، ط: مکتبہ حقانیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ: من وھب لأصولہ و فروعہ أو لأخیہ أو لعمتہ شیئاً فلیس لہ الرجوع الخ (الباب الثالث فی بیان احکام الھبۃ ج:3، ص:385 ، ط: رشیدیۃ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2